انڈیا میں فیس بک کی عہدیدار انکھی داس کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہAnkhi Das
انڈیا میں فیس بک کی جانب سے مبینہ تعصب کے حوالے سے شروع ہونے والا تنازع ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔
اب چھتیس گڑھ کے ایک نیوز چینل کے صحافی آویش تیواری نے انڈیا میں فیس بک کی پبلک پالیسی ڈائریکٹر (جنوبی اور وسطی ایشیاء) انکھی داس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295 اے، 505 سی (1) 506، 500 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کروائی ہے۔
انکھی داس کے علاوہ دیگر دو افراد وویک سنہا اور رام ساہو کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔
صحافی آویش تیواری جنھوں نے انکھی داس کے خلاف رپورٹ درج کروائی ہے پچھلے کئی برسوں سے صحافت کے پیشے میں ہیں اور وہ چھتیس گڑھ حکومت کی فیک نیوز کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فیس بک انڈیا کے بارے میں 'وال سٹریٹ جرنل' میں شائع ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ فیس بک انڈیا میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے۔ آویش تیواری نے اس خبر کو وجہ بنا کر آنکھی داس کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آویش تیواری نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'فیس بک یقیناً انڈیا میں کاروبار کرنا چاہتا ہے لیکن اسے انڈیا میں سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ کارپوریٹ ہاؤسز اور صحافیوں کی جنگ نہیں ہے۔ یہ انڈین آئین کی اقدار کے تحفظ کی لڑائی ہے۔‘
رائے پور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اجے یادو کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور پولیس قواعد کے مطابق کارروائی کرے گی۔
حال ہی میں 'وال سٹریٹ جرنل' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیس بک انڈیا میں بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں کی مبینہ اشتعال انگیز پوسٹوں پر پابندی عائد کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
اس رپورٹ میں ایک اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر بی جے پی کارکنوں کی جانب سے عدم اعتماد پھیلانے والے بیانات کو ہٹایا جائے گا تو انڈیا میں کمپنی کے کاروبار پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کانگریس پارٹی نے فیس بک اور بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، متعلقہ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو ایک خط بھی لکھا ہے۔
تاہم وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد فیس بک کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیس بک ایسے مواد پر پابندی عائد کرتا ہے جو نفرت اور تشدد کو ہوا دیتا ہے اور کسی بھی پارٹی یا سیاسی وابستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو نافذ کرتا ہے۔
انکھی داس کی شکایت
جب وال اسٹریٹ جرنل کی اس خبر کے بعد پورے ملک میں تنازع پیدا ہوا تو 16 اگست کی رات انڈیا میں فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر (وسطی اور جنوبی ایشیاء) انکھی داس نے رائے پور کے صحافی اویش تیواری کے ساتھ ساتھ پانچ لوگوں اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف دہلی پولیس کے سائبر سیل میں شکایت درج کروائی۔ اس شکایت میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان لوگوں نے انکھی داس کو سوشل میڈیا پر ملنے والی پرتشدد دھمکیوں کو شیئر کیا تھا۔
اس کے بعد اگلے دن اویش تیواری نے انکھی داس کے خلاف رائے پور پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی۔ تاہم انکھی داس کی شکایت کا ایف آئی آر میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق اویش تیواری نے 16 اگست کو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں ایک مضمون پر مبنی ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 'انکھی داس لوک سبھا انتخابات سے قبل فیس بک کے سیاسی مفاد کے لیے ہر طرح کی نفرت انگیز تقاریر نہ ہٹانے کے لیے اپنے ماتحتوں پر دباؤ ڈال رہی تھیں ان کا کہنا تھا کہ اس سے مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔۔‘
اویش تیواری کے مطابق 'فیس بک یوزر رام ساہو نے مجھے اور میرے گھر کو نذر آتش کرنے کی دھمکی دی۔ اس پوسٹ کے بعد مجھے جگہ جگہ سے واٹس ایپ کالز اور پیغامات مل رہے ہیں۔ جن میں فیس بک کی ڈائریکٹر انکھی داس کا نام لے کر مجھے جان سے مارنے اور برباد کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔‘
آویش تیواری نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہ کہ رام ساہو، انکھی داس اور وویک سنہا مذہبی عدم استحکام پھیلا کر انہیں بدنام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔









