انڈیا: دہلی میں فیس بک کو انگریزی نصاب کا حصہ بنانے پر غور

،تصویر کا ذریعہAFP
فیس بک پر پوسٹ کرنا تقریباً پونے دو ارب صارفین کا روزانہ کا مشغلہ ہے۔
کوئی سیاسی بیان بازی یا پھر اپنے کسی عزیز کے لیے پیش کیے جانے والے پیغام تہنیت یا پیغام عقیدت بہت سے 'لائکس' کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن شاید ہی کوئی ان بیانات یا پیغامات کو ادب میں شمار کرے۔
لیکن انڈیا کی معروف دہلی یونیورسٹی اس سے اتفاق نہیں رکھتی اور وہ فیس بک پوسٹ لکھنے کو اپنے انگریزی کے نصاب میں شامل کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی طلبہ کو یہ بھی پڑھایا جائے گا کہ کس طرح دلچسپ بلاگ یا پھر 'کور لیٹر‘ یا تعارفی خط لکھا جائے۔
انگریزی کے نئے نصاب کی تجویز پر فی الحال دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر غور کر رہے ہیں۔
دہلی یونیورسٹی میں انگریزی شعبے کے سربراہ پروفیسر کرسٹل دیوڈاسن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'فیس بک کے اپ ڈیٹس مہارت کے فروغ کے نصاب کا حصہ ہوں گے۔ یہ پیشہ ورانہ ہنر کے فروغ کے لیے غیر اکیڈمک کورس ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے معروف اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق انڈیا میں سوشل میڈیا نئے مصنف، فنکار کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں یہاں تک کہ انھیں ناشر بھی مل سکتے ہیں۔
اسی طرح کسی چیز کا وائرل ہو جانا بھی ایک فن ہے اور یہ ادب کے طلبہ کے لیے ان دنوں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی یونیورسٹی کے ایک سینيئر اہلکار نے انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ 'تصنیف کا مطلب صرف غیر فکشن یا انتہائی ڈرامائی فکشن نہیں ہے۔ اس میں عام تصانیف بھی شامل ہیں جس کے مشمولات اہم ہوں جیسے بلاگ، پوسٹس، کور لیٹر یا پھر فیس بک پوسٹ۔'
خیال رہے کہ دہلی یونیورسٹی دنیا کی پہلی یونیورسٹی نہیں ہے جس نے فیس بک کو تعلیمی و تدریسی عینک سے دیکھا ہو۔ برطانیہ کی سالفورڈ یونیورسٹی سوشل میڈیا میں ماسٹرس یعنی ایم اے کا کورس سنہ 2009 سے ہی کرا رہی ہے۔









