مجھے تنہا چھوڑ دو جو کہنا تھا کہہ چکی: گرمہر

،تصویر کا ذریعہGURMEHAR KAUR FACEBOOK
دہلی یونیورسٹی کی طالبہ گرمہر کور نے سخت گير ہندو تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اے بی وی پی کے خلاف مہم سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دہلی کے رام جس کالج میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات والے طلبا کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد گرمہر کور اچانک سرخیوں میں آ گئی تھیں۔
انھوں نے منگل کی صبح ٹویٹ کیا: 'میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں۔ ہر کسی کو نیک خواہشات۔ میں گذارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔ مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ہوں۔'
انھوں نے مزید کہا: 'میں کافی کچھ برداشت چکی ہوں۔ اور 20 سال کی عمر میں اس سے زیادہ نہیں جھیل سکتی۔ یہ مہم طلبا کے لیے تھی، میرے بارے میں نہیں۔ جو لوگ میری بہادری اور جرات پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔۔۔ ( ان سے کہنا چاہتی ہوں) میں نے ضرورت سے زیادہ ہی ثابت کر دیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس کے ساتھ ہی گر مہر کور نے سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم اے بی وی پی کے خلاف 28 فروری کو مجوزہ احتجاجی مارچ میں لوگوں سے بڑی تعداد میں حصہ لینے کی بھی اپیل کی ہے۔
اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سہیلیوں کو جنسی زیادتی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'میرے بہت سے دوستوں کو مارا پیٹا گیا تھا۔ اپنے دوستوں کی حمایت میں میں نے یہ مخالفت شروع کی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گر مہر کور دہلی کے مشہور لیڈی سری رام کالج میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے 22 فروری کو اپنی فیس بک پروفائل بدلی تھی جس کے بعد سے وہ سرخیوں میں ہیں۔ تصویر میں گر مہر نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ 'میں دہلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں اور میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے نہیں ڈرتی، انڈیا کا ہر طالب علم میرے ساتھ ہے۔'
اس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے طلبا و طالبات نے #StudentsAgainstABVP کے ٹوئٹر کے ساتھ ایسا ہی پیغام لکھ کر اپنی تصویریں ڈالنی شروع کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE GRAB
اس سے پہلے انھوں نے اسی طرح کی ایک تصویر فیس بک پر ڈالی تھی جس پر لکھا تھا کہ 'پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا۔'
ان کے والد بھارتی فوج میں کپتان تھے اور کارگل کی جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ ہنگامہ نبیادی طور پر اسی پیغام پر ہے۔ اس کے بعد سے ہی گر میہر کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انھیں مبینہ طور پر ریپ کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کی شکایت انھوں نے دلی میں خواتین کے کمیشن سے بھی کی ہے۔
گر مہر کا کہنا ہے کہ کئی بڑے لوگ میری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں۔ مجھے غدار کہا جارہا ہے لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ اصل میں حب الوطنی ہوتی کیا ہے۔








