افغانستان: آخری چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہونے سے بین الافغان مذاکرات کے امکانات روشن

،تصویر کا ذریعہWakil Kohsar
افغانستان کی حکومت نے اپنی قید میں موجود آخری 400 طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے بعد ایک طویل عرصے سے تعطل کے شکار بین الافغان امن مذاکرات کی راہ میں موجود بڑی رکاوٹ دور ہوتی نظر آ رہی ہے۔
حکام کے مطابق جمعرات کو 80 طالبان قیدی رہا کیے گئے جن پر افغان اور غیر ملکی شہریوں پر حملوں کے الزامات ہیں۔
یہ رہائی ملک میں 19 سال سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے بین الافغان مذاکرات کی ابتدا کے لیے بنیادی شرائط میں سے تھی۔
قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہوتے ہی قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے۔
افغانستان کے دفتر برائے قومی سلامتی کونسل نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ یہ رہائی ’بلاواسطہ مذاکرات اور ایک پائیدار و ملک گیر جنگ بندی کی کوششوں میں تیزی لانے کے لیے‘ کی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر افغان لویہ جرگے نے اُن 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی جن پر ’بڑے جرائم‘ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکام نے ابتدائی طور پر انھیں رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان قیدیوں میں 44 کے قریب وہ جنگجو بھی شامل ہیں جو امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے بڑے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے تشویش کے باعث ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ ان کی رہائی دنیا کے لیے ’خطرہ‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس مسئلے سے پہلے تک امن کی خواہش پر تو اتفاق تھا مگر اس کی قیمت پر نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہONSC
افغان صدر اشرف غنی کی جانب طالبان قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری ہونے کے محض دو روز بعد ہی افغان طالبان نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ افغان حکام اور ملک کے جاسوس ادارے نام نہاد دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر ان کے رہا ہونے والے ساتھیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ُپلِ چرخی جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
بیان کے مطابق کابل انتظامیہ اور جاسوس ادارے، فوجی اہلکاروں اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر ان گاڑیوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں طالبان قیدیوں کو جیل سے رہائی کے بعد لے جایا جا رہا ہو گا۔
یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے پیر کی شب افغانستان کے مختلف جیلوں میں قید چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کے حکمنامے پر دستخط کر دیے تھے۔
امید کی جا رہی تھی کہ اس اقدام کے بعد بین الافغان مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
طالبان کو سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملے کے ذریعے اقتدار سے بیدخل کر دیا گیا تھا۔
اس گروہ نے بتدریج اپنی قوت واپس حاصل کی ہے اور سنہ 2001 سے اب تک یہ کہیں زیادہ علاقوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس ڈیل کا مقصد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس سے پہلے طالبان صرف امریکہ سے ہی بات کرنے پر رضامند تھے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں یہ بات طے پائی تھی کہ طالبان کے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے قبل پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کیے جائیں گے۔
ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا تاہم 400 جیل میں رہ گئے تھے۔ اے ایف پی کے مطابق ان میں سے 150 اب بھی سزائے موت کے منتظر ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ نومبر تک وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد گھٹا کر پانچ ہزار تک لے آئے گا۔













