افغان لڑکی جس نے والدین کے قاتل طالبان شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا

،تصویر کا ذریعہSocial Media
افغانستان میں ایک لڑکی نے گذشتہ ہفتے اپنے والدین کا قتل کرنے والے دو طالبان شدت پسندوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
سوشل میڈیا پر اس لڑکی کی 'بہادری' کی خوب تعریف ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ 17 جولائی کو افغانستان کے صوبہ غور کے گروئے نامی گاؤں میں پیش آیا۔
مقامی حکام نے بتایا کہ لڑکی نے اپنے گھر میں رکھی اے کے 47 رائفل سے دو شدت پسندوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
مقامی حکام کے مطابق لڑکی کے والد حکومت کے حامی تھے اور گاوٴں کے سردار بھی۔ ان سے ناراض طالبان نے ان کے گھر میں گھس کر حملہ کیا تھا۔
مقامی پولیس کے سربراہ حبیب الرحمان ملکزادہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے لڑکی کے والد کو گھر کے باہر کھینچا اور جب اس کی والدہ نے مخالفت کی کوشش کی تو دونوں کو مار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار نے بتایا کہ 'اس کے بعد ان کی بیٹی نے گھر پر رکھی اے کے 47 رائفل اٹھائی اور پہلے والدین کے قاتلوں کو ہلاک کیا اور پھر بعض دیگر شدت پسندوں کو زخمی کر دیا۔'
حکام کے مطابق لڑکی کی عمر 14 سے 16 برس کے درمیان ہے۔
سوشل مڈیا پر لڑکی کی ایک تصویر بھی شیئر ہو رہی ہے جس میں اس کے ہاتھ میں اے کے 47 رائفل دیکھی جا سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد طالبان کے مزید شدت پسند آئے اور انہوں نے بچی کے گھر پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن گاوٴں والوں اور حکومت کے حامی مسلح گروہوں نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صوبے کے گورنر نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان سکیورٹی اہلکار لڑکی اور اس کے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ کسی محفوظ مقام پر لے گئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد لڑکی کی سوشل میڈیا پر تعریف کی جانے لگی۔
اے ایف پی کے مطابق نجیبہ رحمی نامی صارف نے فیس بک پر لکھا 'اس کی ہمت کو سلام۔ '
ایسے ہی ایک اور فیس بک صارف محمد سالح نے لکھا 'ہمیں پتا ہے، والدین کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ لیکن تم نے جو بدلہ لیا اس سے تم کو تھوڑا سکون ملے گا۔'
مقامی میڈیا کے مطابق غور افغانستان کے مشرق میں ایک انتہائی پسماندہ صوبہ ہے اور وہاں خواتین کے خلاف تشدد کے واقاعت کی شرح بھی زیادہ ہے۔
طالبان نے فروری میں امریکہ کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا لیکن اس کے بعض دھڑے موجودہ افغان حکومت کا تحتہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے کے حق میں ہیں۔












