افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین: ’افغان حکام نام نہاد دولت اسلامیہ سے مل کر رہا ہونے والے قیدیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہONSC
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
افغان صدر اشرف غنی کی جانب طالبان قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری ہونے کے محض دو روز بعد ہی افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان حکام اور ملک کے جاسوس ادارے نام نہاد دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر ان کے رہا ہونے والے ساتھیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے گذشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پلِ چرخی جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
بیان کے مطابق کابل انتظامیہ اور جاسوس ادارے، فوجی اہلکاروں اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر ان گاڑیوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں طالبان قیدیوں کو جیل سے رہائی کے بعد لے جایا جا رہا ہو گا۔
یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے پیر کی شب افغانستان کے مختلف جیلوں میں قید چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کے حکمنامے پر دستخط کر دیے تھے، امید کی جا رہی تھی کہ اس اقدام کے بعد بین الافغان مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ اتوار کو جب کابل میں افغان لویا جرگہ نے ایک طویل قرارداد منظور کی تھی تو اس کی دوسری شق میں کہا گیا تھا کہ ’امن مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے، خونریزی روکنے اور عوام کے قومی مفاد کی خاطر جرگہ بقیہ چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دیتا ہے۔‘
اس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ صدارتی منظوری کے فوراً بعد ہی ان قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہARG
طالبان کا موقف تھا کہ ان قیدیوں کی رہائی کے تین یا چار دن کے اندر اندر بین الافغان مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا اور ذرائع نے چند دن قبل اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ عمل رواں ماہ کی 16 تاریغ سے شروع ہو سکتا ہے۔
تاہم سہیل شاہین کے تازہ بیان کے بعد مبصرین کے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ بیان میں وہ کہتے ہیں کہ طالبان کو اس معاملے پر سخت تشویش ہے اور قیدیوں کی رہائی اور ان کی منتقلی کا عمل بحفاظت طریقے سے مکمل ہو جانا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تمام فریقین اس کے ذمہ دار ہوں گے۔
افغانستان طالبان قیدی کیوں رہا کر رہا ہے؟
فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں ہونے والے معاہدے کے مطابق طالبان کے پانچ ہزار قیدی اور افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کئے جائیں گے۔ افغان حکومت نے چار ہزار چھ سو طالبان قیدیوں کو پہلے ہی رہا کر دیا تھا جبکہ بقیہ چار سو قیدیوں کے 'سنگین جرائم' میں ملوث ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی سے انکار کیا گیا تھا۔
لیکن لویا جرگہ نے باقی رہ جانے ان چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری بھی دی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کردئیے ہیں۔
کابل میں حکومتی ذرائع کے مطابق ان چار سو طالبان قیدیوں میں خودکش حملوں کے ماسٹرمائنڈز، قتل، اغوا، ریپ اور منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں سزا پانے والے قیدی مشتمل ہیں۔ تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے ہی قیدی ساتھی ہیں اور ان کی رہائی کے بغیر بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوسکتے۔
پیر کو کابل میں بعض حکومتی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ طالبان کے ان چار سو باقی رہ جانے والے قیدیوں میں غیرملکی بھی ہیں تاہم افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے سرکاری ٹی وی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں میں کوئی بھی غیرملکی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے اتوار کو افغان لویہ جرگہ نے بھی کہا تھا کہ اگر طالبان کے باقی رہ جانے والے قیدیوں میں کوئی غیرملکی ہیں تو اُس ملک سے ضمانت لینے کے بعد اُس قیدی کو طالبان کے بجائے اپنے ملک کے حوالے کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہONSC AFGHANISTAN
اگلے بین الافغان مذاکرات کب ہونے تھے؟
افغانستان کے سرکاری ٹیلی ویژن آر ٹی اے نے بھی اپنے ذرائع سے یہ خبر دی ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا پہلا اجلاس اتوار کو دوحہ میں ہوگا۔ اس سے پہلے طالبان اور افغان حکومت دونوں یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان مذاکرات کا پہلا اجلاس دوحہ میں ہوگا جبکہ باقی اجلاس کس ملک میں ہونگے، اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ افغان حکومت کے مطابق بین الافغان مذاکرات کی میزبانی کے لئے کم از کم بارہ ممالک نے خواہش ظاہر کی ہے۔
افغان حکومتی ٹیم کی سربراہی این ڈی ایس کے سابق معصوم ستانکزئی کریں گے، جبکہ حکام کے مطابق اس ٹیم میں افغان سیاستدان، سابق آفیسران اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہونگے۔ طالبان کے ساتھ بین الافغان مذاکرات کے لئے افغان حکومت کی اس ٹیم کم از کم پانچ خواتین بھی ہونگی۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے ہی افغان عوام کی سب سے پہلی ترجیح جنگ بندی ہیں اور اتوار افغان لویہ جرگہ نے بھی بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے ہی طالبان اور افغان حکومت دونوں سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر بین الافغان مذاکرات میں ہی بحث ہوگی۔
افغانستان میں گزشتہ چالیس برس سے جنگ، بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے لاکھوں افغان اپنی سرزمین چھوڑ چکے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں، جن کی سب سے پہلے ترجیح امن یا جنگ بندی ہیں۔













