امرناتھ یاترا: انڈین حکومت نے آخری لمحے پر کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر کشمیر کی تاریخی یاترا منسوخ کر دی

امرناتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہر سال تقریباً تین لاکھ ہندو یاتری امرناتھ گھپا میں شِو لِنگ کے درشن کرتے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

کشمیر میں ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا کووڈ 19 کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر منسوخ کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق گذشتہ اس زیارت کا انتظام کرنے والے ادارے شری امرناتھ جی شرائن بورڈ (ایس اے ایس بی) نے منگل کے روز میٹنگ کے بعد اس کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔

اس میٹنگ کی صدرات کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریشن چندر مرمرو نے کی جو کہ ایس اے ایس بی کے چیئرمین بھی ہیں۔

راج بھون سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ صورت حال کے پیش نظر بورڈ نے بجھے ہوئے دل کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے کہ رواں برس امرناتھ جی کی یاترا نہیں کی جا سکے گی اور بورڈ افسوس کے ساتھ یاترا 2020 کی منسوخی کا اعلان کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل تمام تر خدشات کے باوجود حکومت نے محدود پیمانے پر یاترا کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں واقع ہندوؤں کے بگھوان شِو سے منسوب بابا امرناتھ گُپھا یا غار کی یاترا گذشتہ 30 برس سے کڑے سکیورٹی حصار میں ہو رہی ہے لیکن اس بار فوج کو بھی بہت سے خدشات تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بہر حال منگل سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کو آخری وقت میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ماہرین کی طرف سے یاترا کو معطل کرنے کی رائے کے باوجود 21 جولائی سے پانچ اگست تک تقریباً آٹھ ہزار ہندو عقیدت مند زائرین کو امرناتھ گپھا میں بگھوان شوِ سے منسوب برف کے شِولنگ کے درشن یعنی زیارت کی بات کہی گئی تھی۔

امرناتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہShafat Farooq

،تصویر کا کیپشنجون میں ہی کشمیر کے امرناتھ شرائن بورڈ نے ماہرین کی رائے لے کر یہ اعلان کیا تھا کہ اس سال یاترا کو منسوخ کرنا ناگزیر ہے تاہم حکومت ہند نے اس سلسلے میں مداخلت کر کے فیصلہ مؤخر کیا

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جون میں ہی کشمیر کے امرناتھ شرائن بورڈ نے ماہرین کی رائے لینے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ امسال یاترا کو منسوخ کرنا ناگزیر ہے تاہم حکومت ہند نے اس سلسلے میں مداخلت کر کے فیصلہ مؤخر کیا اور بالآخر اس ماہ کے اوائل میں یاترا کی مدت اور یاتریوں کی تعداد کو محدود کر کے یاترا کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی روزانہ اوسط درجن سے زیادہ ہے اور ہر روز 500 سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد ان افراد میں شامل ہیں جو اب تک کوِوڈ 19 میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

اس اعلان سے قبل انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری بی وی آر سبرامنیم کا کہنا تھا کہ ’کوِوڈ 19 کے خطرات کو دیکھتے ہوئے سخت ترین قواعد اور ضوابط کے تحت یاترا ہو گی۔ روزانہ صرف پانچ سو یاتریوں کو درشن کی اجازت ہو گی اور یاترا دو ماہ کی بجائے صرف پندرہ دن پر مشتمل ہو گی۔ کشمیر آنے والے ہر یاتری کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور اُنھیں لازمی قرنطینہ کے مرحلے سے گزرنا ہو گا۔‘

واضح رہے کہ ہر سال تقریباً تین لاکھ ہندو یاتری امرناتھ گپھا میں شِو لِنگ کے درشن کرتے ہیں۔

امرناتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہShafat Farooq

،تصویر کا کیپشنجنوب میں چندن واڑی اور سونہ مرگ میں بال تل سے کئی کلومیٹر کا پہاڑی سفر یاتریوں کو پیدل طے کرنا ہوتا ہے

گذشتہ برس پانچ اگست کو کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان کرنے سے دو روز قبل فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں ہتھیار اور گولی بارود کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے جس سے اندازہ ہے کہ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ ہو سکتا ہے۔

یاترا ایک ہفتے سے جاری تھی لیکن فوجی انکشاف کے بعد یاترا کو معطل کیا گیا اور یاتریوں اور سیاحوں سے کہا گیا کہ وہ فوراً وادی چھوڑ کر چلے جائیں۔ جبکہ اس بار بھی فوج کو شبہ تھا کہ مسلح عسکریت پسند یاترا کو ہدف بنائیں گے۔

جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں میڈیا سے بات چیت کے دوران فوج کے برگیڈئیر وی ایس ٹھاکر نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی کشمیر میں فی الوقت 100 دہشتگرد سرگرم ہیں جن میں بیس سے زیادہ پاکستانی ہیں۔

’ہمیں خفیہ اطلاع ملی ہے کہ دہشت گرد جموں سے سرینگر آنے والی شاہراہ پر یاتریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

امرناتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہShafat Farooq

،تصویر کا کیپشنبابا امرناتھ سے منسوب اس گھپا کا راستہ جنوبی کشمیر میں صحت افزا مقام پہلگام سے اور شمال مغرب میں سونہ مرگ سے ہو کر گرزتا ہے

تاہم رواں برس فوج کے اس دعوے کے بعد حکومت نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ پوری انتظامیہ کو متحرک کر کے پولیس، واٹر ورکس، فائر سروس، صحت و طبی خدمات اور تعمیرات عامہ سمیت 16 سرکاری محکمے یاترا کی تیاری میں لگا دیے تھے۔

بابا امرناتھ سے منسوب اس گپھا یعنی غار کا راستہ جنوبی کشمیر میں صحت افزا مقام پہلگام سے اور شمال مغرب میں سونہ مرگ سے ہو کر گزرتا ہے۔ جنوب میں چندن واڑی اور سونہ مرگ میں بال تل سے کئی کلومیٹر کا پہاڑی سفر یاتریوں کو پیدل طے کرنا ہوتا ہے۔ رواں سال بال تل سے دُمیل تک کے راستے کو جنگی بنیادوں پر پختہ کیا گیا اور خطرناک مقامات پر حفاظتی ریلنگ نصب کیے گئے تھے۔

عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی کہ یاترا کی وجہ سے کورونا وائرس کی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے حکومت نے سرکاری ٹیلی ویژن کو حکم دیا تھا کہ وہ گپھا میں ہونے والی افتتاحی پوجا یعنی بابا امرناتھ کی آرتی کو برارہ راست ملک بھر میں نشر کرے۔

امرناتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ روزانہ پانچ سے چھ سو افراد کی موت ہوتی ہے۔ کشمیر میں بھی صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں پانچ ہزارسے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور سینکڑوں افراد کی موت ہو چکی ہے۔