کورونا وائرس لاک ڈاؤن: انڈیا کے ’امیر ترین‘ مندر بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں

مندر

،تصویر کا ذریعہCreative Touch Imaging Ltd./NurPhoto/Getty Images

،تصویر کا کیپشنجنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں واقع انڈیا کے سب سے امیر پدما نابھن سوامی مندر کی مالی حالت خستہ بتائی جا رہی ہے
    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, صحافی، بنگلور

کورونا وائرس کے اثرات کی بدولت جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں واقع انڈیا کا امیر ترینکہلائے جانے والا شری پدمنابھ سوامی مندر بھی اچھوتا نہیں رہا ہے۔

شمالی انڈیا میں بھی اس مندر کے عقیدت مندوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ لیکن فی الحال اس مندر کی معاشی حالت کو ’بہت خراب‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

عام طور پر اس مندر میں روزانہ دو سے تین لاکھ کے چڑھاوے یا نذرانے وصول ہوتے تھے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب صرف آن لائن نذرانے ہی موصول ہو رہے ہیں، اور اس مد میں حاصل ہونے والی رقم کم ہو کر دس سے 20 ہزار روپے ہی رہ گئی ہے۔

مندر

،تصویر کا ذریعہDeAgostini/Getty Images

کیرالہ کے تیرو وننت پورم میں واقع شری پدما نابھ سوامی مندر کے ایگزیکٹیو آفیسر وی رتھیسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مندر کے 307 ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہم (انتظامیہ) بینک میں موجود پیسوں پر ملنے والے منافع پر انحصار کرتے ہیں۔ مندر کے اخراجات اور کم آمدن کے پیش نظر میں خود اپنی تنخواہ کا 30 فیصد حصہ مندر کو دے رہا ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’یہ انڈیا کا امیر ترین مندر ہے۔ یہاں شمالی انڈیا کی ریاستوں سے بڑی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں۔ کبھی یہاں روزانہ پانچ سے 10 ہزار عقیدت مند آتے تھے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اب کوئی نہیں آتا ہے۔‘

مندر

،تصویر کا ذریعہDeAgostini/Getty Images

،تصویر کا کیپشنکیرالہ میں واقع انڈیا کے سب سے امیر پدمانابھن سوامی مندر کی سنہ 2013 میں لی گئی ایک تصویر

مندر کی انتظامیہ نے رواں سال مارچ اور اپریل میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ چار سے چھ کروڑ روپے کے درمیان لگایا ہے۔

اگر ملک کے امیر ترین مندر کی حالت ایسی ہے تو جنوبی انڈیا میں موجود ایسے سبھی مذہبی مقامات جیسے سبری مالا مندر کی مالی حالت تو اور بھی پتلی ہے۔ سبری مالا میں بھگوان ایپپا کی مُورت ہے۔

مندر

،تصویر کا ذریعہARUN SANKAR/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسبری مالا مندر دوسرا سب سے زیادہ امیر مندر کہلاتا ہے

سبری مالا سے 100 کروڑ روپے

تریونکور دیوا سوم بورڈ (ٹی ڈی بی) کے چیئرمین این واسو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ رواں ماہ ان کی تنخواہ میں تقریبا 25 فیصد کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹی ڈی بی کے تحت کیرالہ میں تقریباً 125 مندروں کے انتظام و انصرام کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ان میں سبری مالا مندر بھی شامل ہے۔ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ان مندروں میں پیسہ آنا بند ہو گیا ہے۔

ٹی ڈی بی کی نگرانی میں جتنے مندر ہیں ان میں سے صرف سبری مالا مندر سے ہی 100 کروڑ روپے نذرانے آتے ہیں۔ جبکہ باقی دوسرے تمام مندروں سے بھی مجموعی طور پر اتنے رقم بطور نذرانہ موصول ہوتی ہے۔

مندر

،تصویر کا ذریعہShankar/The India Today Group via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسبری مالا میں عقیدت مندوں کا ہجوم۔ ٹی دی بی کیرالہ میں تقریبا 125 مندروں کی دیکھ ریکھ کرتا ہے جس میں سبری مالا بھی شامل ہے

کیرالہ کے دوسرے سب سے امیر ترین مندر گرو وایور کی پوزیشن باقی مندروں سے قدرے بہتر ہے۔ مندر کے ایک کارکن نے بتایا کہ ’ہم صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

جنوبی انڈیا کی دوسری ریاست کرناٹک کے ساحلی اضلاع میں واقع کللور موکامبیکا مندر اور کوککے سبرامنیا مندر میں نہ صرف جنوبی انڈیا بلکہ بیرون ملک سے بھی عقیدت مند آتے ہیں۔

مندر کے ٹرسٹی ڈاکٹر ابھیلاش پی وی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’معمول پر آنے میں ہمیں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگے گا۔ ہماری سالانہ آمدنی 40 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ ہمارے ماہانہ اخراجات قریب 90 لاکھ روپے ہیں اور رواں سال مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں میں ہم نے اپنے مستقل عملے اور آؤٹ سورس سٹاف کو تنخواہ دی ہے۔ نیز وہ لوگ جو روزانہ کی پیش کشوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم ان کا بھی خیال رکھ رہے ہیں۔‘

مندر

،تصویر کا ذریعہSTRDEL/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکوککے سبرامنیا مندر میں انڈیا کے مشاہیر بھی جاتے ہیں یہاں کرکٹر تندولکر کو دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو)

موکامبیکا کے مندر میں تمل ناڈو، کیرالہ، آندھرا پردیش اور یہاں تک کہ سری لنکا اور جاپان کے عقیدت مند بھی زیارات کے لیے آتے ہیں۔

سری لنکا کے وزیر اعظم رنیل وکرما سنگھے اور ان کی اہلیہ میتری کے انڈیا کے دورے کے دوران موکامبیکا مندر کا دورہ کیا تھا۔

لاک ڈاؤن کے باعث کوککے سبرامنیا مندر کو تین مہینوں میں 22.79 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔

مندر کے ایک کارکن نے بتایا کہ ’ہم ملازمین کو تنخواہ دے رہے ہیں لیکن نقصان بہت زیادہ ہے۔‘

مندر

،تصویر کا ذریعہwww.kukke.org

،تصویر کا کیپشنکوککے سبرامنیا مندر کا رات کا منظر

جنوبی انڈیا کے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد کوککے سبرامنیا مندر میں زیارات اور پوجا کے لیے جاتی ہے۔

اس کے علاوہ مغربی ریاست مہاراشٹرا یا ممبئی کی مشہور شخصیات بھی یہاں آتی ہیں جن میں اداکارہ ایشوریا رائے بچن کے علاوہ سٹار کرکٹر سچن تندولکر بھی شامل ہیں۔

محکم وظائف کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’کرناٹک میں بندوبست قانون کے تحت تقریبا 34 ہزار 562 مندر ہیں۔ ان میں سے 202 مندر گروپ ’اے‘ میں آتے ہیں جبکہ 139 گروپ ’بی‘ میں آتے ہیں۔ ان دونوں گروپس کے مندروں میں پجاریوں کو تنخواہ دی جا رہی ہے۔ گروپ ’سی' کے مندروں میں پجاریوں کو سالانہ 48 ہزار روپے ملتے ہیں۔ ہم تمام ضرورت مند پجاریوں کو 1000 روپے راشن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔‘

صرف کرناٹک میں ہی مندروں میں نذرانے کی کمی سے مجموعی طور پر تقریباً 133.56 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

۔