انڈیا: ریاست بہار اور اتر پردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک

آسمانی بجلی، انڈیا، بہار، اتر پردیش

،تصویر کا ذریعہEPA

شمالی انڈیا کی دو ریاستوں میں حالیہ دنوں میں آسمانی بجلی گرنے کے درجنوں واقعات میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریاست بہار کی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی ریاست میں 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 20 دیگر زخمی افراد ہسپتالوں میں موجود ہیں۔

پڑوسی ریاست اتر پردیش میں بھی 20 لوگوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

انڈیا میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس دوران بارشوں اور طوفان سے درختوں اور تعمیرات کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور گھروں میں رہیں کیونکہ موسمیاتی ماہرین کے مطابق موسم اگلے چند دنوں میں بھی خراب رہے گا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ انھوں نے متاثرہ افراد کے خاندانوں سے بھی تعزیت کی۔

بہار کے وزیر برائے قدرتی آفات لکشمیشور رائے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حالیہ سالوں میں اس ریاست میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نصف سے زائد ہلاکتیں ریاست کے شمالی اور مشرقی ضلعوں میں ہوئی ہیں۔

اتر پردیش کے حکام کے مطابق اس ریاست میں سب سے زیادہ اموات مقدس شہر پریاگراج اور ضلع دیوریا میں ہوئی ہیں جو نیپال کی سرحد کے قریب ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق انڈیا میں 2018 میں 2300 افراد آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے تھے، جبکہ سنہ 2005 سے اب تک ہر سال کم از کم 2000 افراد ہلاک ہوتے رہے ہیں۔

آسمانی بجلی، انڈیا، بہار، اتر پردیش

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا میں دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت آسمانی بجلی کے باعث ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی ایک وجہ گھر سے باہر کام کرنا بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں۔

سنہ 2018 میں انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں صرف 13 گھنٹوں کے اندر آسمانی بجلی گرنے کے 36 ہزار 749 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

آسمانی بجلی سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

  • کسی بڑی عمارت یا گاڑی کے اندر پناہ لے لیں
  • وسیع اور کھلے علاقوں اور بنجر پہاڑیوں سے دور ہوجائیں
  • اگر آپ کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تو پیروں کو آپس میں ملا کر، اور سر گھٹنوں میں چھپا کر خود کو جتنا چھوٹا ہدف بنا سکتے ہیں، بنا لیں
  • اگر آپ پانی پر ہیں تو جتنا جلد ہو سکے، کنارے پر پہنچ کر کھلے اور وسیع ساحلوں سے دور ہوجائیں

(ذریعہ: رائل سوسائٹی فار پریوینشن آف ایکسیڈنٹس)