انڈيا: بجلی گرنے سے اتنے زیادہ لوگ کیوں ہلاک ہوتے ہیں؟

آسمانی بجلی

،تصویر کا ذریعہALAN HIGHTON

،تصویر کا کیپشنانڈيا میں موسمی خطرات سے متنبہہ کرنے کا کوئی درست بند و بست نہیں ہے

انڈیا میں ہر سال بجلی گرنے سے بہت سے لوگوں کی موت ہو جاتی ہے اور اس طرح کے بیشتر واقعات خاص طور پر ملک کی شمالی ریاستوں میں پیش آتے ہیں۔

انڈيا میں ایک سال میں بجلی گرنے سے دو ہزار لوگوں کی موت تک کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

آسمانی بجلی گرنے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی مثال دنیا کے دیگر خطوں میں نہیں ملتی۔ بجلی گرنے سے امریکہ میں ہر برس اوسطاً 30 لوگ ہلاک ہوتے ہیں جبکہ برطانیہ میں یہ اوسط تین کے آس پاس ہے۔

ظاہر ہے دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی آسمانی بجلی گرنے کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ انڈیا میں اس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات کیوں ہوتی ہیں؟

آسمانی بجلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں لوگوں کو موسم کے متعلق آگاہ کرنے اور ممکنہ خطرات سے خبردار کرنے کا بندوبست بہتر ہے۔ وقت سے پہلے ہی لوگوں کو یہ بتا دیا جاتا ہے کہ کن علاقوں میں موسم خراب ہو سکتا ہے، بجلی گر سکتی ہے۔

لیکن اس کے برعکس انڈيا میں اس کا کوئی صحیح بند و بست نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جون سے ستمبر کے مہینے میں جو مونسون ہوائیں چلتی ہیں ان کی بڑی لہر انڈیا تک پہنچتی ہیں جس کی ایک وجہ تو انڈیا کی جغرافیائی صورتحال ہے۔

بحیرہ عرب میں انڈیا کا نصف حصہ ایک جزیرہ نما کی طرح ہے۔ اس لیے یہ مونسون ہوائیں انڈیا کے بہت بڑے حصے کو متاثر کرتی ہیں۔

آسمانی بجلی

،تصویر کا ذریعہunknown

اس کا مطلب یہ ہوا کہ انڈيا میں بارشیں خوب ہوتی ہیں اور شمال مشرقی ریاستوں میں مونسون ہوائیں بڑی رفتار سے پہنچتی ہیں، ایسی جگہوں پر آسمانی بجلی گرنے کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے۔

دنیا کے دیگر خطوں کے برعکس انڈیا میں بیشتر کسان اور مزدور کاشتکاری اور کھیت کی فصل کے کاموں کے لیے اپنے گھروں سے بیشتر اوقات باہر ہوتے ہیں۔ بجلی گرنے کی صورت میں اس طرح کے لوگ آسانی سے اس کی زد میں آجاتے ہیں۔