انڈیا: آسمانی بجلی اور سیلاب میں ’درجنوں‘ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
انڈیا کی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ میں بجلی گرنے سے گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم 30 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ شمالی ریاستوں میں سیلاب کی تباہ کن صورت حال سے مزید 31 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئي نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ریاست کے 28 اضلاع میں 37 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ بہار میں حالیہ بارشوں میں 26 دیگر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اڑیسہ سے مقامی صحافی سبرت کمار پتی نے بتایا ہے کہ ریاست کے آفات کنٹرول کے محکمے نے آسمانی بجلی گرنے سے 28 لوگوں کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم اموات کی تعداد اس سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ریاست کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو سرکاری امداد پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔
بجلی گرنے سے بھدرك میں آٹھ، بالیشور میں سات، كھوردھا میں پانچ افراد کی جان گئی ہے۔ ان کے علاوہ میور بھنج میں چار، کٹک میں دو، جاجپور میں تین اور نياگڑھ میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی گئي ہے۔
بھدرك ضلع میں ہنگامی امور کے افسر راجندر پانڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ضلع میں پانچ افراد کی موت کی خبر ہے۔
ریاست کے اسپیشل ریلیف کمشنر پرديپت مہاپاتر نے بی بی سی کو بتایا: ’مرنے والوں کا ابھی پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی مرنے والوں کی صحیح تعداد بتائی جا سکتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب ریاست بہار اور آسام میں بھی مسلسل بارش سے سیلاب کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
آسام میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ: ’صورت حال کافی سنگین ہے۔ سیلاب کو قومی آفت قرار دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمیں لائح عمل بنانے کی ضرورت ہے۔‘
بہار میں دس اضلاع کو سیلاب زدہ قرار دیا گیا ہے اور وہاں 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں۔ ریاست میں سب سے زیادہ سپول میں آٹھ اور پورنیہ میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔







