ایرانی پولیس کی فائرنگ سے گاڑی میں آتش زدگی: تین افغان پناہ گزین ہلاک، سوشل میڈیا پر غم و غصہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران میں ایک گاڑی میں آتش زدگی کے باعث تین افغان پناہ گزینوں کی ہلاکت کے بعد مقامی پولیس شدید تنقید کی زد میں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ واقعے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ گاڑی میں آگ دراصل مقامی پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں لگی۔
اس واقعے کے نتیجے میں مزید چار افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے ایک لڑکے کو عینی شاہد کی جانب سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں ’مجھے پانی دو میں جل رہا ہوں‘ کی صدا لگاتے سنا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کی یہ صدا اب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ہیش ٹیگ بن چکی ہے جس کے ذریعے افغان باشندے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک ماہ قبل ایران کے بارڈر گارڈز کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے ایک گروہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ 45 افغان مزدوروں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب ایرانی بارڈر گارڈز نے انھیں گن پوائنٹ پر دریا میں اترنے کا کہا۔ ایران ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
گاڑی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟
ایران کے مرکزی صوبے یزد کے ڈپٹی گورنر احمد تاراہومی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو شبہ تھا کہ اس گاڑی میں منشیات اور غیرقانونی طور پر ملک میں آنے والے پناہ گزین موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب گاڑی پولیس چیک پوائنٹ پر نہیں رکی تو افسران نے فائرنگ شروع کر دی اور گاڑی کے ٹائرز پھٹ گئے تاہم گاڑی پھر بھی ’رمز‘ پر چلتی رہی جس سے چنگاریاں نکلیں اور آگ لگ گئی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک لڑکے کی ویڈیو شیئر ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کے جسم کا کچھ حصہ جھلس چکا ہے، اس کے کپڑے پھٹ چکے ہیں اور وہ سڑک کنارے لیٹا پانی مانگ رہا ہے۔
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اس واقعے کی مصدقہ ویڈیو ہے۔
واقعے پر ردِعمل
ایران میں افغانستان کے سفیر عبدالغفور لیوال نے جمعہ کے روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایک افغان وفد ایران بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو ان پناہ گزینوں کی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ واقعے کی تحقیقات بھی کرے گا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتے ہی متعدد افراد نے ٹوئٹر پر برہمی کا اظہار کیا۔ یہ غصہ دراصل ایک عرصے سے افغان باشندوں کے ساتھ ایران میں کی جانے والی مبینہ زیادتیوں کے باعث پہلے سے موجود ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ’کمی آب بیار کہ سوختم‘ یعنی مجھے پانی دو میں جل رہا ہوں اور ’افغان لائیوز میٹر‘ کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس وقت ایران میں تقریباً 30 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں جن میں سے کچھ پناہ گزین اور ملک میں ہجرت کر کے آنے والے شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک افغان وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن علی نوری نے فیس بک پر لکھا کہ ’ایران کو کوئی حق نہیں ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو ہلاک کرے۔ وہ اپنی سرحدیں بند کر سکتے ہیں، تمام افغان باشندوں کو ملک بدر بھی کر سکتے ہیں لیکن انھیں ہلاک نہیں کر سکتے۔‘
سوشل میڈیا پر چند افغان باشندوں نے امریکہ میں پولیس کی جانب سے کیے جانے تشدد کا موازنہ اس وقعے سے کیا۔
افغانستان کے چین کے لیے سفیر جاوید احمد قائم نے لکھا کہ ’ایک لڑکا پانی کی ایک بوند کے لیے چلا رہا ہے لیکن اسے کوئی پانی نہیں دیتا، انسانیت کہاں ہے؟ یہ یقیناً شرمناک ہے۔‘
ایک صارف حامد ہاتساندھ نے لکھا کہ ’افغان باشندے ایران میں یا تو جھلس کر مر رہے ہیں یا انھیں پانی میں پھنکا جا رہا ہے۔ ایران میں ہر ہفتے دسیوں جارج فلائیڈ ہوتے ہیں۔ ایران کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یقیناً خطرناک ہیں۔‘











