ایران، افغانستان سرحد تنازع: ایرانی بارڈر گارڈز کی جانب سے افغان شہریوں کو دریا میں دھکیلنے کے واقعے پر تحقیقات کا مطالبہ

ایران

،تصویر کا ذریعہTasnim

    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد

ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بسنے والے افغان مزدوروں اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان پیش آنے والا واقعہ آہستہ آہستہ ایک عالمی تنازعے کی شکل اختیار کر رہا ہے اور یورپی یونین کے بعد اب امریکہ نے بھی اس کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے ضلع رباط سنگی میں گذشتہ جمعے 50 کے قریب افغان شہریوں نے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں ایرانی کی سرحد پر تعینات گارڈز نے انھیں مارا پیٹا اور پھر قریب بہتے دریائے ہری رود میں دھکیل دیا جس کی وجہ سے کچھ افغان شہری ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

ایران نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔

افغان حکام کے مطابق 50 سے 52 افراد اکٹھے غیرقانونی طور پر ایران میں داخل ہوئے جن میں 16 واپس اپنے گھروں کو پہنچے ہیں جبکہ 16 کی لاشیں ملی ہیں اور 18 سے 20 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق باقی لوگوں کی لاشیں دریا میں بہہ گئی تھیں اور ان کی تلاش جاری ہیں۔

افغان حکومت نے واقعے پر ایران سے شدید احتجاج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کی تردید

جواب میں ایران نے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ان کی سرزمین پر پیش نہیں آیا ہے تاہم انھوں نے واقعے کی تحقیقات کرنے کی حامی بھر لی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں واقعے کی ایک ویڈیو کا ذکر ہے جس میں افغان پناہ گزینوں کو مارا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی واقعہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر پیش نہیں آیا۔

تاہم کابل میں افغان وزارت خارجہ کے مطابق اس واقع کی تحقیقات کے لیے تہران نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انھیں امید تھی کہ بہت جلد اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز ہو جائے گا۔

bbc
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے چند ہی افغان مزدوروں کی لاشیں ملی ہیں جبکہ کئی اب تک لاپتہ ہیں

سرکاری اور عالمی ردعمل

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے افغان حکام سے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سرحد پر ایرانی بارڈر گارڈز کے ہاتھوں افغان پناہ گزینوں کی مبینہ ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کریں اور ملوث افراد کو کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔

بدھ کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ انھیں ایرانی گارڈز کی جانب سے افغان پناہ گزینوں پر مبینہ تشدد اور ہلاکت کی اطلاعات پر سخت تشویش ہے۔

یورپی یونین نے بھی افغان پناہ گزینوں کی ایرانی گارڈز کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس سے قبل افغانستان کے وزیر خارجہ حنیف اتمر نے منگل کو ایک ٹویٹ میں ایران کے ساتھ سرحد پر افغان پناہ گزینوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد افغان عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ایسے دلخراش واقعات کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔

’میں لاشیں نکال رہا تھا اور گارڈ ہم پر فائرنگ کر رہے تھے‘

احمد اُن لوگوں میں سے ایک ہیں جو دریا میں تیر کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی گارڈز نے انھیں دریا میں دھکیلنے کے بعد ان پر فائرنگ بھی کی۔

’وہاں سے ہم نو لوگ زندہ نکل کر آئے۔ کوئی کہہ رہا تھا میرا دوست نہیں، کوئی کہتا میرا بھائی نہیں۔ دو بھائیوں کی لاشیں میں نے خود نکالیں لیکن اس وقت ایرانی گارڈز نے ہم پر پھر فائرنگ کرنا شروع کر دی۔‘

اس سے قبل خبر رساں اداے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے شیر آغا نامی ایک اور عینی شاہد نے بتایا تھا کہ گارڈز نے انھیں گولی مارنے کی دھمکی دی تھی۔

شاہ ولی نامی ایک اور شخص کے مطابق انھیں بس کے ذریعے سرحد تک لایا گیا اور پھر پیدل دریا عبور کرنے پر مجبور کیا گیا۔

Afghan migrants in Herat province

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن'وہاں سے ہم نو لوگ زندہ نکل کر آئے۔ کوئی کہہ رہا تھا میرا دوست نہیں، کوئی کہتا میرا بھائی نہیں۔ دو بھائیوں کی لاشیں میں نے خود نکالیں لیکن اس وقت ایرانی گارڈز نے ہم پر پھر فائرنگ کرنا شروع کر دی'

لیکن 19 سالہ عبدالباری اتنے خوش قسمت نہیں تھے اور وہ اپنے گھر نہیں لوٹے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا روزگار کے سلسلے میں ایران گیا تھا۔

’وہ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے وہ یہاں ریڑھی چلا رہا تھا اور روز پچاس یا سو افغانی کما لیتا۔ میں نے منع کیا کہ ایران ابھی نہ جاؤ، جب بارڈر کھل جائے گا پھر جانا، لیکن وہ نہیں مانا اور کہنے لگا کہ اتنے بڑے خاندان کو کو سو پچاس میں کیسے پالوں۔‘

غربت، بے روزگاری اور اپنے ملک میں رائج بدامنی کی وجہ سے لاکھوں افغان محنت مزدوری کے لئے قانونی اور غیرقانونی راستوں سے ہمسایہ ملک ایران چلے جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایران میں تقریباً 30 لاکھ افغان شہری بستے ہیں جن میں پناہ گزین اور دیہاڑی دار مزدور شامل ہیں۔ سینکڑوں افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر کام کی تلاش میں سرحد پار کر کے ایران جاتے تھے۔

تاہم ایران میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد ایران سے واپس اپنے ملک آگئی تھی اور خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی لوگوں میں وائرس موجود ہے۔

جب سے ایران نے سماجی پابندیاں ہٹائی ہیں تب سے افغان مزدور بڑی تعداد میں دوبارہ سرحد پار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔