امریکہ، افغان طالبان امن معاہدے سے افغانستان کے شہری کتنے پر امید

امن
،تصویر کا کیپشنامن معاہدہ امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم پر امن پیشرفت ہے اور اس سے جنگ سے تھکی ہوئے افغان عوام میں امید کی کرن پھوٹی ہے
    • مصنف, سکندر کرمانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، قندوز

افغانستان کا پرچم قندوز شہر کے ایک مصروف چوارہے پر لہرا رہا ہے۔ وہاں تعینات ایک پولیس اہلکار نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب جب طالبان نے تھوڑے سے عرصے کے لیے بھی یہاں قبضہ کیا، ان کا سب سے پہلا کام اس پرچم کو اپنے سفید اور سیاہ پرچم سے بدلنا ہوتا تھا۔ گذشتہ پانچ سال میں انھوں نے دو بار ایسا کیا ہے۔

ہمارے عقب میں چوک کے کونے پر ایک پوسٹر میں ایک سینیئر پولیس اہلکار کی تصویر لگی تھی جو گذشتہ سال اگست میں ہونے والے خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔

اب یہ چوراہا تقریباً 100 نوجوانوں کے احتجاج کا مرکز ہے جو امن کی حمایت میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سپیکر سے پرزور آواز میں وطن پرست گیت گونج رہے ہیں۔ مجمعے میں کسی نے بہت سے غبارے پکڑ رکھے ہیں جن پر ’آئی لو یو‘ لکھا ہوا ہے۔

مظاہرین میں شامل زاہد کہتے ہیں ’ہم یہاں امن کی حمایت میں آئے ہیں۔ ہم بہت خوش ہیں۔ گذشتہ چند دنوں سے قندوز اور ملک بھر میں امن ہے۔ ہم ہمیشہ قائم رہنے والی جنگ بندی چاہتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں طالبان، افغان فوج اور امریکہ کے زیر قیادت بین الاقوامی فورسز کی جانب سے ایک دوسرے پر ایک ہفتے تک حملہ نہ کرنے اور تشدد کم کرنے کے معاہدے کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔

یہ عرصہ بہت حد تک پرامن طور پر گزر گیا۔ اب امریکہ اور طالبان سنیچر کو قطر میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ معاہدے میں اس شرط پر کہ طالبان، القاعدہ جیسے گروہوں کو اپنے علاقوں میں سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے، افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا وقت طے کیا جائے گا۔

یہ امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم پر امن پیشرفت ہے اور اس سے جنگ سے تھکی ہوئے افغان عوام میں امید کی کرن پھوٹی ہے۔

کندوز

قندوز کے مضافات کے دیہی علاقوں میں شدید جنگ دیکھی گئی ہے۔ ہم نے تعلقہ نامی ایک گاؤں کا دورہ کیا جسے حال ہی میں حکومت نے طالبان کے قبضے سے تین سال بعد دوبارہ حاصل کیا تھا۔

جنگجوؤں کو نشانہ بناتے وقت ایک مقامی سکول فضائی حملے میں نیست و نابود ہو گیا کیونکہ انھوں نے اسے اپنا اڈہ بنا رکھا تھا۔

اس حملے میں سکول کے پڑوس میں رہنے والے ایک معمر شخص نصراللہ کی املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

نصراللہ کہتے ہیں ’چار طالبان جنگجو چھپنے کے لیے دیوار پھلانگ کر آ گئے۔ میں نے ان سے کہا کے چلے جاؤ ورنہ یہ گھر بھی فضائی حملے میں اڑا دیا جائے گا لیکن وہ نہیں مانے۔‘

گاؤں میں ہر کوئی اپنے گھر میں ہونے والی تباہی دکھانا چاہتا تھا۔ بہت سے لوگ تو ابھی اپنے گھروں میں واپس بھی نہیں آ سکے ہیں۔ افغان فوج بارودی سرنگیں ہٹانے میں مدد کر رہی ہے لیکن ابھی بھی وہ کہیں نا کہیں موجود ہیں۔

ایک دوسرے معمر شخص نے اپنے گھر کی دیوار میں پڑے بڑے سے گڑھے کو دکھایا جو کہ مورٹر شیل کا نتیجہ تھا۔

قندوز

اپنی گردن پکڑتے ہوئے انھوں نے بتایا ’میں اپنی اہلیہ کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اسے زخم آیا ہے۔ دوسرا راکٹ وہاں گرا۔ اس سب کی دوبارہ تعمیر کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘

تاہم وہ پر امید ہیں ’میرے پاس ایک ٹی وی ہے اور میں خبریں دیکھتا ہوں۔ جب کبھی بھی میں امن کے بارے میں سنتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔‘

امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ معاہدہ امن کی جانب ایک قدم ہے لیکن مکمل جنگ بندی اور ملک کا سیاسی مستقبل ایسی چیز ہے جو طالبان اور دیگر افغان رہنماؤں کے درمیان علیحدہ بات چيت کے بعد ہی وجود میں آ سکتا ہے۔ یہ بات چیت قطر میں معاہدے پر دستخط کے بعد ہی ممکن ہو گی اور اس میں کم از کم مہینوں لگ سکتے ہیں۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتائج نے اس عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ اشرف غنی کو بہت کم اکثریت سے فاتح قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی متوازی حکومت بنائيں گے۔

ابھی یہ ظاہر نہیں کیا گیا ہے کہ تشدد میں کمی کا دور افغانوں کے درمیان مذاکرات کے دوران بھی جاری رہے گا یا نہیں۔ قندوز شہر میں داخل ہونے والے مشرقی دروازے کے ایک فوجی چیک پوائنٹ پر فوجی طالبان دراندازوں کو چیک کر رہے ہیں۔ انھیں یہ خدشہ ہے کہ اس جزوی جنگ بندی کو وہ شہر میں دھماکہ خیز مواد لانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

32 سالہ صلاح الدین صفائی اس علاقے میں اپنے بڑے کنبے کے ساتھ رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ طالبان عام طور پر دو ہفتے میں ایک بار اس چیک پوائنٹ پر حملہ تو کرتے ہی ہیں اور وہ ان کے گھر کے پاس کھیتوں سے آگے بڑھتے ہیں۔

صلاح الدین کہتے ہیں کہ ان کے بچے بندوق کی آوازوں کے عادی ہو گئے ہیں لیکن وہ ان کی ذہنی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

صلاح الدین
،تصویر کا کیپشنصلاح الدین کہتے ہیں کہ ان کے بچے بندوق کی آوازوں کے عادی ہو گئے ہیں

وہ پر امید ہیں کہ امن آئے گا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ محتاط بھی ہیں۔ اس سے قبل بھی ان کے اہلخانہ نے سحر کاذب دیکھی ہیں۔ جب امریکہ نے سنہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا تو وہ یہ سوچ کر پڑوسی ملک پاکستان سے (جہاں وہ ایک پناہ گزین کیمپ میں رہتے تھے) افغانستان واپس آ گئے تھے کہ ان کا ملک ترقی کرے گا۔ لیکن وہ ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے جس میں سینکڑوں افغان شہری مارے گئے۔

وہ کہتے ہیں ’اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو اس طرح کی چیزیں پہلے بھی ہو چکی ہیں۔ جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تھا تو اس وقت بھی امن کے لیے مذاکرات ہوئے تھے لیکن وہ ناکام رہے تھے۔ ایک خانہ جنگی چھڑ گئی اور آج ملک اس حالت میں ہے۔‘

وہ اس چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جسے بہت سے لوگ افغانستان کی تاریخ کا بدترین باب کہتے ہیں جس میں مخالف ’مجاہدین‘ گروہ جنھوں نے سویت حملے کے خلاف کامیابی کے ساتھ جنگ کی تھی، وہ آپس میں اور افغان کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف اقتدار کے لیے لڑ رہے تھے۔

صلاح الدین کہتے ہیں ’ہم اس عمل کے بارے میں قدرے بے یقینی کا شکار ہیں کہیں تاریخ پھر سے خود کو نہ دہرائے۔‘

غیاث الدین
،تصویر کا کیپشنغیاث الدین طالبان کی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے کے نتیجے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا چکے ہیں

اس بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ امن کے لیے افغانیوں کو کیا قیمت چکانی پڑے گی۔ کیا طالبان ملک کے موجودہ جمہوری نظام کو قبول کریں گے اور خواتین کے حقوق میں جو دو دہائیوں میں بہتری آئی ہے، اسے قبول کریں گے۔

طالبان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کےخیال میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے لیکن مقامی رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ قندوز کے پاس کے طالبان کے قبضے والے بعض گاؤں میں لڑکیوں کو سن بلوغت پر پہنچنے کے بعد سکول میں تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔

لیکن دوسروں کے لیے تشدد کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے۔ غیاث الدین اپنے 70 کی دہائی میں ہیں اور تعلقہ گاؤں کے رہائشی ہیں وہ طالبان کی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے کے نتیجے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا چکے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ انھیں کبھی معاف کر سکیں گے تو انھوں نے جواب دیا 'اگر وہ ہمارے پڑوسی بن جاتے ہیں تو ہمیں انھیں قبول کرنا پڑے گا۔ میرا سب کچھ اسی گاؤں میں ہے۔ ان کے ساتھ جینا سیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘