کورونا وائرس: انڈین ریسلر ببیتا پھوگاٹ کی مسلمان مخالف ٹویٹس پر شور، ٹوئٹر سے اکاؤنٹ بند کرنے کا مطالبہ

ببیتا پھوگاٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنببیتا پھوگاٹ نے حال ہی میں انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے

انڈیا کی معروف ریسلر اور بین الاقوامی میڈلسٹ کی جانب سے انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے والی ٹویٹس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ریسلر ببیتا پھوگاٹ پر پابندی لگانے کے لیے ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ببیتا نے مسلمانوں کے لیے ایک توہین آمیز ہیش ٹیگ کا استعمال کیا اور کہا کہ انڈیا کے لیے وائرس سے بھی بڑا مسئلہ مسلمان ہیں۔

یہ ٹرینڈ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی ٹوئٹر نے اداکارہ کنگنا رناوٹ کی بہن رنگولی چنڈل کا اکاؤنٹ معطل کیا تھا جنھوں نے اسی نوعیت کی ٹویٹس کی تھیں۔

رنگولی چنڈل پر مسلمانوں پر تشدد اور ’سیکولر میڈیا‘ کی جانب سے ان کی حمایت کرنے پر ان کے خلاف کافی شکایات سامنے آئیں۔ وہ مسلمان کمیونٹی پر ڈاکٹروں پر حملہ کرنے اور انھیں مارنے کا الزام بھی عائد کر چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ببیتا پھوگاٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنببیتا پھوگاٹ کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہیں

ببیتا پھوگاٹ کا اکاؤنٹ تو بند نہیں کیا گیا لیکن بہت سے لوگ ٹوئٹر سے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم کچھ گھنٹے بعد ببیتا کی حمایت میں بھی ایک ٹرینڈ شروع ہو گیا۔

ببیتا پھوگاٹ کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہیں اور انھوں نے حال ہی میں انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

انڈیا میں کورونا وائرس کے بہت سے متاثرین کا براہ راست تعلق کئی روز جاری رہنے والے ایک تبلیغی اجتماع سے جوڑا جا رہا ہے۔ جس کے بعد ملک بھر سے اسلام مخالف ٹویٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@HasibaAmin

انڈین پولیس نے تبلیغی جماعت کے رہنما کے خلاف اجتماع کے ذریعے ملک بھر میں کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کیا ہے لیکن تبلیغی جماعت ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔

تاہم اس خبر کے سامنے آنے سے بہت سے انڈین شہری وائرس کے پھیلاؤ کو مسلمانوں سے منسوب کر رہے ہیں۔ بہت سے دکانداروں نے شکایت کی ہے کہ لوگ ان سے سامان کی خریداری نہیں کرتے اور انھیں بھگا دیتے ہیں۔

حکومت نے اس تفریق کا باعث بننے والی ٹویٹس اور پوسٹس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔