پاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام جس نے معروف انڈین خلائی سائنسدان کی زندگی بدل دی

،تصویر کا ذریعہVivek Nair
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کیرالہ
تصور کریں کہ صرف ایک ڈرامائی لمحہ آپ کی پوری زندگی بدل کر رکھ دے۔
انڈین خلائی پروگرام کے ایک صفِ اول کے سائنسدان کے ساتھ یہ اس وقت ہوا جب 25 سال قبل پولیس افسران نے ان کے دروازے پر دستک دی۔
وہ لمحہ
چوتھائی صدی قبل وہ سردیوں کی ایک دوپہر تھی جب انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے دارالخلافہ تریوندرم کی ایک تنگ گلی میں تین پولیس افسران ایک گھر کے باہر پہنچے۔
نمبی نارائنن کو یاد ہے کہ افسران کافی شائستہ تھے اور احترام سے بات کر رہے تھے۔ انھوں نے خلائی سائنسدان کو بتایا کہ ان کے باس یعنی ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
نارائنن نے ان سے پوچھا کہ 'کیا مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے؟'
پولیس اہلکاروں نے کہا کہ 'نو سر!'
یہ 30 نومبر 1994 کا دن تھا۔ 53 سالہ سائنسدان انڈین خلائی تحقیقاتی ادارے (آئی ایس آر او) کے کرایوجینک راکٹ انجن پراجیکٹ کے سربراہ تھے اور ان کی ذمہ داری روس سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنا تھی۔
نارائنن گھر کے باہر کھڑی پولیس کی گاڑی تک آئے اور پوچھا کہ کیا وہ آگے بیٹھیں گے یا پیچھے، کیونکہ گرفتار ہونے والوں کو عام طور پر پچھلی نشست پر پھینک دیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکاروں نے ان سے آگے بیٹھنے کے لیے کہا اور جیپ گلی سے باہر نکل گئی۔
یہ بھی پڑھیے
جب وہ لوگ تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں کے باس وہاں موجود نہ تھے۔ نارائنن کو کہا گیا کہ وہ بینچ پر بیٹھ کر انتظار کریں۔ ان کے پاس سے گزرتے ہوئے پولیس اہلکار انھیں تعجب کی نگاہ سے دیکھتے۔
نارائنن کہتے ہیں 'ان کے چہروں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھ رہے ہیں جس نے کوئی جرم کیا ہو۔'
نارائنن نے بہت انتظار کیا لیکن باس نہیں آئے۔
جب رات ہوئی تو وہ بینچ پر ہی سو گئے۔ اگلی صبح جب وہ سو کر اٹھے تو انھیں بتایا گیا کہ وہ زیرِحراست ہیں۔
صحافیوں کا ایک جتھہ پہنچ چکا تھا اور کچھ ہی گھنٹوں میں اخبارات انھیں غدار کہہ رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ مالدیپ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے جھانسے میں آ کر انھوں نے راکٹ ٹیکنالوجی پاکستان کو بیچ دی۔
اس دن کے بعد سے ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔
غدار کہلانے سے پہلے کی زندگی
پانچ بہنوں کے سب سے چھوٹے اور اکلوتے بھائی نمبی نارائنن ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کھوپرے کے بیجوں اور چھال کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی والدہ بچوں کا خیال رکھنے کے لیے گھر پر ہی رہتی تھیں۔
نوجوان نارائنن ایک اچھے طالبعلم تھے اور بارہویں جماعت میں اول آئے۔ انھوں نے ایک انجینیئرنگ سکول میں داخلہ لیا اور ڈگری حاصل کی۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) میں ملازمت اختیار کرنے سے پہلے انھوں نے چینی کی فیکٹری میں نوکری کی۔
وہ کہتے ہیں 'مجھے ہمیشہ سے ہی ہوائی جہاز اور اڑتی ہوئی چیزوں میں دلچسپی تھی۔'

وقت گزرنے کے ساتھ ایجنسی میں ان کے درجے میں ترقی ہوتی چلی گئی۔ پھر انھیں امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں راکٹ پروپلژن سسٹم یعنی راکٹ کے زمین سے اڑان بھرنے میں استعمال ہونے والی طاقت کے سسٹم کے بارے میں کی تعلیم حاصل کرنے کی سکالرشپ ملی۔
ایک سال بعد گھر لوٹتے ہی انھوں نے انڈین خلائی ایجنسی اسرو میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی۔
اسرو میں نارائنن نے انڈیا کے خلا میں جانے والے پروگرامز کے معتبر سائنسدانوں کے ساتھ کام کیا جیسے اسرو کے بانی اور پہلے چیئرمین وکرم سارابھائی، ان کے جانشین ستیش دھون اور عبدالکلام جو بعد میں انڈیا کے 11ویں صدر بنے۔
نارائنن کا کہنا ہے 'جب میں نے اسرو میں کام کرنا شروع کیا تو سپیس ایجنسی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ ہمارا راکٹ سسٹم بنانے کا کبھی کوئی پلان نہیں تھا۔ اپنے پے لوڈ کی منتقلی کے لیے ہم امریکہ اور فرانس کے راکٹ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔'
لیکن پلان بدل گیا اور انڈیا میں بنائے جانے والے راکٹس کے پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں نارائنن ایک اہم شخصیت بن گئے۔

انھوں نے بطور سائنسدان انتھک محنت کی مگر نومبر 1994 میں ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
ان کی گرفتاری سے ایک ماہ پہلے کیرالہ پولیس نے ایک مالدیپ کی خاتون مریم رشیدہ کو ویزہ ختم ہونے کے باوجود رکنے کے جرم میں گرفتار کیا۔
کچھ ہفتوں بعد پولیس نے مریم کی دوست اور مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں بینک میں کام کرنے والی فوزیہ حسن کو انڈیا سے گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ایک بڑا سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔
پولیس اہلکاروں سے ملنے والی غیرسرکاری معلومات پر مبنی خبروں میں مقامی اخبارات نے لکھا کہ خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر مالدیپ سے تعلق رکھنے والی دو مخبر خواتین نے انڈیا کے راکٹ پروگرام کے راز چوری کر کے پاکستان کو فروخت کیے۔
اب دعویٰ کیا جانے لگا کہ نارائنن ان سائنسدانوں میں سے ایک تھے جو خواتین کے سحر کے آگے بے بس ہو گئے۔
غدار کہلانے کے بعد کی زندگی
جس دن ان کو سرکاری طور پر گرفتار کیا گیا، اسی دن انھیں عدالت بھی لے جایا گیا۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں 'جج نے مجھ سے پوچھا اگر میں اعترافِ جرم کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سوال کیا 'کون سا جرم؟ وہ کہنے لگے 'آپ نے جو ٹیکنالوجی منتقل کی ہے۔' مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔'
جج نے انھیں 11 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ اس وقت کی ایک یادگار تصویر میں وہ گہرے رنگ کی شرٹ اور ہلکے سرمئی رنگ کا پاجامہ پہنے عدالت کی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے ہیں اور پولیس اہلکاروں نے انھیں گھیرا ہوا ہے۔
نارائنن نے اپنی آپ بیتی میں لکھا 'میں سکتے میں تھا اور پھر مجھ پر ہیجان کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ایک بار تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کوئی فلم دیکھ رہا ہوں جس کا مرکزی کردار میں خود ہوں۔'

،تصویر کا ذریعہVivek Nair
اگلے کچھ ماہ میں ان کی عزت اور ساکھ تار تار کر دی گئی۔ ان پر کئی چیزوں کے ساتھ ساتھ انڈیا کے سرکاری خفیہ قانون کو توڑنے اور کرپشن کی فردِ جرم عائد کی گئی۔
ان سے تفتیش کرنے والے اہلکار انھیں مارتے پیٹتے اور بیڈ کے ساتھ باندھ دیتے۔ وہ انھیں کھڑا رہنے پر مجبور کرتے اور سوال جواب کا یہ سلسلہ اکثر 30 گھنٹے تک چلتا۔ وہ انھیں جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹس لینے پر مجبور کرتے حالانکہ ان ٹیسٹوں کے نتائج انڈین عدالتوں میں بطور ثبوت جمع نہیں کروائے گئے۔
پھر انھیں ہائی سکیورٹی جیل لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ایک سلسلہ وار قاتل کو رکھا گیا جس نے مقتولین کو مار مار کر قتل کیا۔ (اس آدمی نے نارائنن کو بتایا کہ وہ ان کے کیس کے بارے میں پڑھ رہا تھا اور اسے معلوم تھا کہ سائنسدان بے قصور ہیں۔)
نارائنن نے پولیس کو بتایا کہ راکٹ پروگرام سے متعلق خفیہ راز کاغذات کے ذریعے سے منتقل نہیں کیے جا سکتے اور یہ کہ انھیں واضع طور پر پھنسایا جا رہا ہے۔
اس وقت انڈیا طاقت ور راکٹ انجن بنانے کے لیے کرایوجینک یعنی انتہائی کم درجہ حرارت میں کام کرنے والے مواد کو بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن تفتیش کرنے والے اہلکاروں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
آخر میں نارائنن نے 50 دن قید میں گزارے جس میں سے تقریباً ایک ماہ جیل میں گزرا۔ جب بھی شنوائی کے لیے انھیں عدالت میں لے جایا تو لوگوں کا ہجوم ان پر جاسوس اور غدار کی آوازیں کستا۔
لیکن ان کی گرفتاری کے ایک ہفتے بعد انڈیا کے سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن نے کیرالہ کے انٹیلیجنس بیورو سے کیس لے لیا۔ نارائنن نے فیڈرل تفتیش کاروں کو بتایا کہ انھیں بتائی جانے والی کوئی بھی معلومات خفیہ نہیں تھی۔
تفتیش کرنے والے ایک افسر نے ان سے کہا 'مجھے نہیں معلوم سب کچھ اس نہج پر کیسے پہنچا۔ ہم بہت شرمندہ ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہShahbaz Khan
بالآخر 19 جنوری 1995 کو ضمانت کے حصول کے بعد وہ آدھی رات سے تھوڑی دیر قبل گھر پہنچے۔
وہ اپنی اہلیہ کو یہ خبر سنانے کے لیے اوپر گئے۔ وہ تاریک کمرے میں فرش پر سو رہی تھیں اور انھوں نے صرف اپنا نام دو بار پکارے جانے کے بعد جواب دیا۔
نارائن یاد کرتے ہیں کہ 'وہ آہستہ سے مڑیں، اپنا سر اٹھایا اور وہیں جامد ہوگئیں۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھیں اور ان کے چہرے پر ایسے عجیب سے تاثرات تھے جیسے مجھے کچھ بُرا کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔'
'پھر انھوں نے ایک ایسی چیخ ماری جو میں نے کبھی کسی انسان یا جانور کے منھ سے نہیں سنی تھی۔'
اس چیخ نے پورے گھر کو ہلا دیا، پھر وہ خاموش ہوگئیں۔
اپنے شوہر کی قید اور غیر موجودگی نے میناکشی امل کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا تھا۔ ان کی شادی کو 30 سال ہوچکے تھے اور ان کے دو بچے بھی تھے، مگر نارائن کی گرفتاری کے بعد یہ سادہ مزاج، مندر جانے والی خاتون ڈپریشن کی شکار ہوگئی تھیں اور انھوں نے لوگوں سے بات چیت بند کر دی تھی۔
نارائن کے علاوہ پانچ دیگر افراد پر جاسوسی اور پاکستان کو راکٹ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
ان میں سے ایک شخص ڈی ششی کمارم خلائی ادارے میں ان کے ساتھی تھے۔ اس کے علاوہ مس رشیدہ اور ان کے دوست تھے (دونوں سے نارائن اپنی گرفتاری سے قبل نہیں ملے تھے)، اور دیگر دو انڈین افراد تھے جن میں سے ایک روسی خلائی ادارے کے ملام اور ایک ٹھیکیدار شامل تھے۔
اہم تاریخیں
1994: نارائن کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر حراست میں رکھا گیا، پھر جنوری 1995 میں انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا
1996: سینٹرل بیورو آف انویسٹگیشن (سی بی آئی) نے انھیں بے گناہ قرار دے دیا
1998: سپریم کورٹ نے کیرالہ حکومت کی اپیل بالآخر خارج کر دی
2001: کیرالہ حکومت کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا
2018: سپریم کورٹ نے کیس گھڑنے کی تحقیقات کا حکم دیا
1996 میں سی بی آئی کی 104 صفحات کی حتمی رپورٹ نے ان سب کو الزامات سے بری قرار دیا۔
وفاقی تفتیش کاروں نے کہا کہ خلائی ادارے سے کسی بھی خفیہ دستاویزات کی چوری اور فروخت، یا انجنز کی ڈرائنگ کے بدلے پیسوں کے تبادلے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسرو کی اندرونی تحقیقات میں بھی یہ پایا گیا کہ کرایوجینک انجنز کی کوئی ڈرائنگز لاپتہ نہیں تھیں۔
نارائن ایک مرتبہ پھر اسرو کے لیے کام کرنے لگے مگر اب انھیں بنگلور میں ایک انتظامی کردار دے دیا گیا۔ لیکن ان کی مشکلات ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ تفتیش کاروں کی جانب سے کیس بند کیے جانے کے باوجود ریاستی حکومت نے اسے دوبارہ کھولنے کی کوشش کی اور سپریم کورٹ تک لے گئی جس نے 1998 میں اس کیس کو خارج کر دیا۔
نارائن نے کیرالہ حکومت پر انھیں پھنسانے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تو انھیں 50 لاکھ انڈین روپے (70 ہزار ڈالر، 53 ہزار پاؤنڈ) ہرجانہ دیا گیا۔
گذشتہ ماہ کیرالہ حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ان کی غیر قانونی گرفتاری اور ہراساں کیے جانے کے معاوضے کے طور پر ایک کروڑ 30 لاکھ روپے مزید ادا کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہVivek Nair
مگر 78 سالہ سائنسدان کے نقطہ نظر سے کہانی اب بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف کیس گھڑنے میں کیرالہ پولیس کے کردار کی تحقیقات کا حکم دیا اور نارائن نتائج دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
'میں میرے خلاف یہ کیس گھڑنے والے لوگوں کو سزا پاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک باب ختم ہوا ہے مگر اگلا باب ابھی باقی ہے۔'
ان کے اور پانچ دیگر افراد کے خلاف بنائے گئے اس کیس کے پسِ پردہ مقاصد اب بھی ایک راز ہیں۔
کیا یہ کسی مخالف خلائی ادارے کی سازش تھی تاکہ انڈیا کی اُس کرایوجینک راکٹ ٹیکنالوجی پر کام رکوایا جا سکے جو کہ بالآخر انڈیا کی خلائی میدان میں ترقی کی بنیاد بنی؟ نارائن کو شک ہے کہ ایسا ہی ہے۔
کیا یہ کسی ایسے مخالف کا کام تھا جو انڈیا کے کمرشل سیٹلائٹس کی لانچ کے شعبے میں مسابقتی قیمتوں پر آمد سے خوف زدہ تھے؟ یا کیا یہ بس انڈیا کی اپنی کرپشن کی کہانی تھی؟
نارائن کہتے ہیں کہ 'اس کی بنیاد ایک ہی سازش تھی مگر سازش کرنے والے مختلف لوگ تھے جن کے مختلف عزائم تھے، اور متاثرین ایک ہی طرح کے لوگ تھے۔'
'جو بھی تھا، میرا کریئر، میری عزت، میرا وقار اور میری خوشی، سب ختم ہوگیا۔ اور جو لوگ اس کے ذمہ دار تھے وہ اب بھی آزاد ہیں۔‘











