خلاباز خلا میں کھانا کس طرح کھاتے ہیں، چند دلچسپ حقائق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رچرڈ ہولی گرام
- عہدہ, بی بی سی
اپولو کے کئی روزہ مشن کا مطلب خلابازوں کے لیے اچھی اور خاص قسم کی غذا ہے لیکن خلا میں جہاں نہ تو چولھا ہے اور نہ ہی گرم پانی تو آپ کھانا کیسے پکائيں گے؟
170 گرام: وہ وزن جتنی مقدار میں خلاباز ناشتے میں گوشت یا مچھلی کا قتلہ کھاتے ہیں
سنہ 1961 میں ایلن شیپرڈ سے لے کر اب تک تمام خلا بازوں کو خلا میں جانے سے قبل صحت مند ناشتہ دیا جاتا ہے۔
اپولو مشن کی پرواز سے قبل تمام کھانے غذائیت اور کیلوری کے حساب سے تیار کیے جاتے اور ان میں اس بات کا دھیان سب سے زیادہ رکھا جاتا ہے کہ یہ کم ریشے والی غذا ہو تاکہ انھیں پرواز کے بعد بہت جلد ٹوائلٹ کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
خلائی مشن سے پہلے دوپہر کے کھانے سے قبل کافی کی مقدار کو اس کی پیشاب آور خصوصیات کے سبب کم کر دیا جاتا تھا۔
مثال کے طور پر شیپرڈ کی مرکزی پرواز صرف 15 منٹ کی تھی اس لیے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ خلائی طیارے کے اترنے تک وہ پیشاب روک سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے انھوں نے الٹی گنتی شروع ہونے میں تاخیر کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔
این بی سی کے يو ایس ٹی وی چینل کے لیے اس مشن کی کمنٹری دینے والے نامہ نگار جے باربی نے کہا: 'انھوں نے ایلن شیپرڈ کو براہ راست راکٹ میں بٹھا دیا جس میں پیشاب کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ دو گھنٹے کے بعد انھوں نے شکایت کرنی شروع کردی اور بےصبری سے اپنے کپڑے گیلے کرنے کی اجازت مانگنی شروع کر دی، بالاخر ان لوگوں نے اجازت دے دی۔'
خلاباز کو چین آ گیا لیکن طبی آلات میں ہلچل مچ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اپولو کے خلائی طیارے میں پرواز کرنے والے خلاباز پرواز کے دوران کنڈوم جیسی چیزیں اپنے پیشاب کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جوکہ ڈسپوزل سسٹم سے منسلک ہوتا ہے جو جہاز کے بغل میں بنے ایک پورٹ سے اس چیز کو باہر پھینک دیتا ہے۔
پاخانے کے لیے پلاسٹک بیگ کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر خلاباز جہاں تک ممکن ہوتا ہے ٹوائلٹ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپولو-7 کے مشن کے دوران پہلی بار پاخانہ نہ روک پانے والے خلاباز والٹ کنگھم تھے۔
انھوں نے کہا: 'ہر چیز کو بالکل درست رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔ آپ ہر چیز کو پکڑ سکتے ہیں لیکن پھر بعض گولیاں بیگ میں کھل جاتی ہیں اور آپ کے پاس وہاں جو کچھ ہوتا ہے انھی سے گولیوں کو ملانے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
2800 گرام: روزانہ لی جانے والی کیلوری
خلا میں کھانا کھانے والے پہلے امریکی جان گلین تھے۔ اپنے پانچ گھنٹے کی پرواز میں انھوں نے ایک ٹوتھ پیسٹ جیسے ٹیوب سے سیب کا گودا کھایا جس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان بےوزنی کی حالت میں کھانا نگل سکتا ہے اور اسے ہضم کر سکتا ہے۔
سنہ 1960 کی دہائی کے وسط میں دو افراد پر مبنی جیمینائی مشن پر خلابازوں کے لیے ایک دن میں 2500 کیلوری والی غذا طے کی گئی تھی اور اسے گھریلو سامان بنانے والی کمپنی ورلپول نے منجمد اور خشک غذا کی شکل میں پلاسٹک پیک میں تیار کیا تھا۔
منجمد کر کے سکھانے میں کھانا پکانا شامل ہے۔ اس کے تحت کھانے کو تیزی کے ساتھ منجمد کر دیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک ہوا سے بھی خالی چیمبر میں دھیرے دھیرے گرم کیا جاتا ہے تاکہ اس پر سے برف کی پرت ہٹ جائے جو اسے منجمد کرنے کے دوران پیدا ہو گئی تھی۔
خلاباز کھانے کو بھگونے کے لیے فوارے کا استعمال کرتے ہیں اور پھر اسے گوندھتے ہیں جس سے وہ لوئی قسم کی چیز بن جاتی ہے۔ یہ کھانے مرکزی مشن کے ٹیوب کے اندر والے کھانے سے زیادہ مزیدار تھے اور ان میں بیف اور اس کا شوربہ شامل تھا لیکن پانی ٹھنڈا تھا جس کی وجہ سے وہ اشتہا انگیز نہیں تھے۔
سنہ 1965 میں پہلے جیمینی مشن جیمینی 3 کے دوران خلاباز جان ینگ نے ایک چھوٹا سا سکینڈل کھڑا کر دیا جو کہ ان کی خلابازی کے شاندار کریئر میں واحد داغ ہے۔ انھوں نے اس مشن کے دوران چپکے سے اپنے ساتھ کارن والا بیف سینڈوچ رکھ لیا۔ جو کہ محض ایک مذاق سے شروع ہوا تھا اس نے طیارے کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا اور یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ اس کے چوڑے کہیں طیارے کے سرکٹ والے نظام پر اثر انداز نہ ہوں۔
اپولو مشن کے دوران جب خلابازوں نے خلائی طیارے میں بعض محدود ورزش شروع کی اور خود کو تھکانے لگے تو ناسا میں غذائیت کے ماہرین نے کیلوری کی مقدار بڑھا کر 2800 کر دی۔
وہاں نہ صرف کھانے زیادہ لذیذ تھے بلکہ طیارے کے ایندھن والے سیلس سے جو پانی وہ واٹر گن کے ذریعے حاصل کر رہے تھے وہ ٹھنڈے اور گرم دونوں تھے۔ اور نہ صرف کھانے کو سٹرا کے ذریعے چوسا جاتا تھا بلکہ خلاباز بعض کھانے کو چمچے سے بھی کھا سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چھ: انناس کے فروٹ کیک کے پیک
اپولو خلائی طیارے کی پینٹری ناشتے سے پُر ہوتی۔ جس میں انناس کے فروٹ کیک کے چھ ٹکڑے، براؤنی کے پیکٹ، چاکلیٹ کیک اور جیلی فروٹ کینڈیز ہوتی تھیں۔ منھ کے مزے یا چٹ پٹے ذائقے کے لیے چیز کریکرزاور بار بی کیو بیف بائٹ ہوتے تھے۔ اپولو کے خلابازوں کو 15 پیک چیونگ گم کی بھی اجازت تھی جس میں سے ہر ایک میں چار چیونگم ہوتی تھی۔
اپولو 17 مشن کے دوران مرغ اور چاول کے بعد بٹرسکواچ پڈنگ (حلوہ) اور 'گراہم کریکر کیوبز' جیسے عام ڈنر کا انتظام تھا۔ وہ اسے فوراً کافی، چائے، کوکا یا لیمنیڈ سے کھا سکتے تھے۔
اپولو 15 کے مشن کے بعد کم پسندیدہ غذائیت سے پُر فوڈ سٹکس جانے لگیں جو کہ آج کے غذائیت اولے بار کا پیش خیمہ تھے اور یہ چاند پر چلنے کے دوران خلاباز کے ہیلمٹ کے سامنے والے حصے میں پانی کے ٹیوب کے ساتھ تھے۔ اور چاند کی سطح پر ان کے معینہ وقت سے زیادہ دورانیہ کے لیے ان کے کھانے کے لیے تھے۔
مختلف قسم کی غذا اور زیادہ کیلوری کے باوجود تقریبا تمام خلابازوں کے وزن میں مشن کے دوران کمی آئي۔ نیل آرم سٹرانگ کا اپولو 11 کی پرواز کے دوران چار کلو وزن کم ہوا۔ اپولو 13 کے مشن کے دوران کمانڈر جم لوویل نے چھ کلو وزن کم ہوا اور اس کی ایک وجہ پانی پر پابندی کے سبب پانی کی کمی تھی۔
اپولو کے ساتھ خلا کے کھانے میں بہتری آتی رہی ہے۔ آج کے خلاباز خلا میں معمول کی غذا کھاتے ہیں لیکن وہ تازہ پھل اور سبزی کو ترستے ہیں اور یہ اسی وقت انھیں ملتی ہے جب ان کے جہاز خلائی سٹیشن سے جا لگتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNASA/Getty Images
صفر: برانڈی کے گھونٹ لیے گئے
کرسمس کے دن سنہ 1968 میں اپولو 8 کے خلاباز چاند سے واپسی کے راستے پر تھے۔ خلاباز کور ڈیکے سلیٹن کے سر پر ان کے لیے ایک مخصوص سرپرائز پیکٹ تھا جس میں مکمل ٹرکی کے شوربے اور کرین بیری کی چٹنی کے ساتھ کرسمس کا مکمل کھانا تھا اور اسے بھگونا بھی نہیں تھا۔
مشن کے کمانڈر فرینک بورمین نے کہا: یہ کھانے کی ایک نئے قسم کی پیکینگ تھی جس کا ہمیں پہلے سے تجربہ نہیں تھا۔۔۔ ہم لوگوں نے کرسمس کے دن دوران پرواز اپنا بہترین کھانا کھایا۔ مجھے بطور خاص ٹرکی، شوربہ اور تمام کام پسند آئے۔'
لیکن سٹائلن کے پاس ہمارے لیے مزید سرپرائز تھے۔ بورمین نے کہا کہ 'وہ ہم سب کے لیے چھپا کر برانڈی کے تین شاٹ لے آئے تھے۔ لیکن ہم نے وہ نہیں پیے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'اگر کوئی چیز غلط ہو جاتی تو اس کا الزام برانڈی پر آتا۔ اس لیے ہم اسے گھر لے آئے۔ پتہ نہیں میری برانڈی کا کیا ہے۔ اب شاید وہ بہت زیادہ قیمتی ہو گی۔'
خلا میں الکوحل پی گئی ہے لیکن روسیوں نے پی ہے اور زیادہ تر کم مقدار میں اور وہ بھی ان کے ابتدائی خلائی سٹیشن کے دور میں۔ بہر حال بین الاقوامی سپیس سٹیشن میں اس پر پابندی ہے۔ اس کی تھوڑی سی بھی مقدار سٹیشن میں پانی حاصل کرنے کے پیچیدہ نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ یہ نظام خلابازوں کے پسینے اور پیشاب پر مبنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNASA
15: اپولو 11 کے عملے نے مائیکروویو سے تیار کیے جانے والے کھانے کھائے
انسانی فلاح کے خلائی پروگرام کی طویل فہرست میں شاید تیار کھانا بہت اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ لیکن اپولو کے بغیر مائکروویو اوون کی ایجاد ممکن نہیں تھی جو کہ آج ہمارے کچن کا ایک اہم حصہ ہے لاکھوں لوگوں کے لیے تیار کھانے کو گرم کر کے کھانے کا وسیلہ ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ اپولو نے عالمی موٹاپے کی وبا میں تعاون کیا ہے۔
جب نیل آرم سٹرانگ، بز آلڈرن اور مائیکل کولنز چاند سے واپس آئے تو انھیں یو ایس ایس ہارنٹ کے موبائل کورنٹائن فیسیلیٹی (ایم کیو ایف) میں چند دنوں تک رکھا گيا تا کہ دنیا کو ممکنہ طور پر چاند سے آنے والے کیڑے سے بچایا جا سکے۔ ہر چند یہ کہ ایم کیو ایف میں گدے دار کرسیاں، ٹوائلٹ اور شاور تھے، لیکن وہاں کھانا پکانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
روایتی چولھے یا گرل کے لیے کوئی جگہ نہ ہونے اور آگ کے خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے ناسا نے اس کا انوکھا حل نکالنے کی کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہارنٹ کے ٹرسٹی باب فش کہتے ہیں: 'یہ اصل مائکروویو کا مساوی تھا جو کہ اپولو پروگرام کے لیے تیار کیا گيا تھا' اور یہ اب کیلیفورنیا میں اوکلاہوما کے ایک میوزیم میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔
فش نے بتایا کہ 'ناسا نے لٹن انڈسٹریز سے رجوع کیا جس نے ایک بڑا چلتا پھرتا مائکروویو اوون تیار کیا تھا اور ان سے کہا کہ اسے اتنا چھوٹا بنائیں کہ یہ چھوٹی سی جگہ میں سما سکے۔۔۔ اس طرح انھوں نے اسے چھوٹا کیا اور پہلی بار جب اس کی جانچ کی گئي تو اس میں انھوں نے کچھ انڈے رکھے اور اوون کو آن کر دیا۔ انڈے پھٹ پڑے کیونکہ انھوں نے اسے جسمانی طور پر چھوٹا تو کر دیا تھا لیکن اس کی توانائی کو کم نہیں کیا تھا۔'
ان ابتدائی پریشانیوں کے بعد مائیکرو ویو منجمد کھانے کو گرم کرنے کے لیے خلابازوں میں بہت مقبول ہوا۔ ان میں پورے پکے ہوئے ناشتے، بیف کے چانپ یہاں تک کہ جھینگے وغیرہ بھی شامل تھے۔ میٹھے میں آئس کریم، پیکن پائی اور چیری کابلر وغیرہ تھیں۔
ایک بار جب خلابازوں کو ہاسٹن لے جایا گيا اور انھیں لونر ریسیونگ تجربہ گاہ میں منتقل کیا گیا تو کھانے کی بہتری میں مزید اضافہ ہوا۔ وہ تازہ پکا ہوا کھانا ٹیبل پر لگے سفید دسترخوان پر کھانے لگے۔










