انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی نے سمارٹ فون تجارت کو کیسے متاثر کیا ہے؟

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً چھ مہینے سے انٹرنیٹ پر پابندی نے تقریباً 500 کروڑ انڈین روپے کی سمارٹ فون کی تجارتی صنعت کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ایسا سمجھیں کہ جیسے کشمیر میں مہنگے سمارٹ فونز اب سمارٹ نہیں رہے۔ انٹرنیٹ پر طویل پابندی نے لوگوں کی رائے میں ان فونز کو محض ایک مہنگی گھڑی بنا کے رکھ دیا ہے اور لوگوں نے سمارٹ فونز کی خریداری معطل کردی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی سے پہلے سمارٹ فونز تجارت کی سالانہ لاگت 500 کروڑ روپے سے زیادہ ریکارڈ کی جاتی تھی۔ لیکن چھ مہینے سے اب یہ تجارت محض پانچ فیصد رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سرینگر کے لال چوک میں سمارٹ فون سٹور کے مالک مُنیر احمد قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کشمیر میں ہر ماہ 40000 فونز فروخت ہوتے تھے، لیکن اب مشکل سے 2000 فون بکتے ہیں۔ اس تجارت سے جُڑے لوگوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
یہ مسئلہ صرف فون ڈیلرز کا ہی نہیں، فون سٹورز میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کا بھی ہے۔
موبائل سٹور میں کام کرنے والے وسیم احمد کہتے ہیں ’میرے کئی ساتھیوں کو نوکری سے نکالا گیا، اور جس ڈسٹری بیوٹر کے پاس میں ہوں وہاں بھی ہماری نوکری ختم کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کئی سال سے میں یہ کام کررہا تھا، اب سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً چھ مہینے سے انٹرنیٹ معطل ہے۔ گذشتہ روز کشمیر کے دو سرحدی اضلاع بانڈی پورہ اور کپوارہ میں نہایت کم رفتار والے انٹرنیٹ کو سوشل میڈیا اور وٹس اپ پر پابندی کے ساتھ بحال کیا گیا۔

’ہم زمین بوس ہوگئے ہیں‘
لال چوک میں ٹریڈرس فیڈریشن کے رہنما بشیر احمد بٹ کہتے ہیں کہ سمارٹ فونز کی تجارت بہت پھل پھول رہی تھی، اور اس تجارت کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ دو لاکھ لوگوں کا روزگار جڑا ہوا تھا۔ ’پہلے تو ہم لگاتار ہڑتال اور کرفیو کی وجہ سے سڑک پر آگئے تھے، اب ہم زمین بوس ہوگئے ہیں۔‘
انٹرنیٹ پر تاریخ کی طویل ترین پابندی کے اثرات کا یہ محض ایک پہلو ہے۔ چھ مہینے سے جاری غیر یقینی کی صورتحال کے باعث کشمیر کی مجموعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
کشمیر چیمبر آف کامرس کے ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی زرعی اور غیرزرعی تجارت کو کل ملاکر 18000 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

اس سروے کے نتائج انڈین حکومت کو پیش کیے گئے ہیں اور گذشتہ روز وادی کے دورے پر آئے مرکزی وزیر صنعت و تجارت پی یوش گویل نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کشمیر کے لیے عنقریب ایک صنعتی پیکیج کا اعلان کرے گی۔
تاہم اِس اُمید افزا اعلان کے باوجود سمارٹ فونز کا کاروبار کرنے والے لوگوں میں بہت مایوسی پائی جاتی ہے۔










