انڈیا میں حیدرآباد ریپ کیس: کیا پولیس مقابلے زیادتی کے واقعات کو ختم کر سکتے ہیں؟

انڈیا، ریپ، بنگلور، حیدرآباد،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد ریپ کیس کے بعد انڈیا کے شہر بنگلور میں عوام ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں اجتماعی ریپ اور قتل کے چار ملزمان کو ایک مبینہ انکاؤنٹر یا پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے پر پورے ملک میں پولیس کی ستائش کی جا رہی ہے۔

ان افراد پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک ڈاکٹر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا جس کے بعد ان کی لاش 28 نومبر کو برآمد ہوئی تھی۔

لیکن بہت سے لوگوں نے اس مبینہ پولیس مقابلے کو ’ہجوم کے ہاتھوں انصاف کا قتل‘ قرار دیا ہے۔

حیدرآباد کی پولیس نے جمعے کی صبح اپنی تحویل میں موجود چاروں ملزمان کو جائے وقوع پر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ انھیں جمعے کی صبح پونے چھے بجے موقعہء واردات پر لے گئی تھی تاکہ ملزموں سے واردات کی منظرکشی کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے کہ انھوں نے اس جرم کو کس طرح انجام دیا تھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزموں نے ایک پولیس افسر کی بندوق چھین کر وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی جس کے دوران پولیس نے انھیں اس جھڑپ میں ہلاک کر دیا۔

اس واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسروں نے یہ مبینہ انکاؤنٹر کرنے والے افسران کو شاباشی دی اور حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجانار نے پولیس افسروں کو ’ہیرو‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر نکل آیا اور متعلقہ پولیس افسروں کو کندھوں پر اٹھا کر جلوس نکالا اور ان پر پھول برسائے۔ پورے ملک میں ان کی ’بہادری‘ کی ستائش کی جا رہی ہے اور فلم اداکار اور اہم شخصیات اس ’فوری انصاف‘ اور ’پولیس کی بہادری‘ کے لیے انھیں مبارکباد دے رہی ہیں۔

تلنگانہ، حیدرآباد، انڈیا، ریپ، احمد آباد،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں لوگ حیدرآباد ریپ کیس کے ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر جشن منا رہے ہیں

لیکن بہت سے لوگ اس مبینہ پولیس مقابلے سے خوش نظر نہیں آتے۔

سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل ورندا گروور نے ٹی وی مباحثوں میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے ’یہ نظامِ انصاف کی ناکامی کا عکاس ہے۔ ملزموں کی ہلاکت کے بعد یہ کبھی پتہ نہیں چل سکے گا کہ ملزموں نے واقعی جرم کا ارتکاب کیا تھا یا نہیں۔ انھیں تفتیش شروع ہونے سے پہلے ہی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا۔‘

ایک تجزیہ کار زینب سکندر نے ایک ٹویٹ پیفام میں کہا ہے کہ ’میں ریپ کے مجرموں کو پھانسی دینے کی حامی ہوں لیکن مجرموں کو پھانسی دینا اور ماورائے عدالت قتل دو الگ الگ چیزیں ہیں۔‘

زینب سکندر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@zainabsikander

کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے کہا کہ ’اگر ملزم مسلح ہوتے تو شاید پولیس کے طریقہء کار کو جائز ٹھہرایا جا سکتا تھا، لیکن قانون کی بالا دستی والے معاشرے میں ماورائے عدالت قتل ناقابل قبول ہے۔

ششی تھرور، انڈیا، حیدرآباد، ریپ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShashiTharoor

مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتا رام يچوری نے کہا کہ ’خواتین کے خلاف جرائم پر بڑھتی ہوئی تشویش کا جواب انکاؤنٹر نہیں ہے۔‘

حقوقِ انسانی کے قومی کمیشن نے حیدرآباد میں ہونے والے اس مبینہ پولیس مقابلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ملزمان کو جھڑپ میں ہلاک کرنے کے واقعے کو ’قانون کے نظام کو بالائے طاق رکھنے کی ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اویناش کمار کے مطابق ’ماورائے عدالت قتل ریپ کے واقعات پر قابو پانے کا حل نہیں ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 28 نومبر کی شب حیدرآباد میں ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور درجنوں شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔

جہاں لوگ ریپ کے ملزموں کو فوراً پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے تھے تو وہیں پارلیمنٹ کے اندر بھی کئی ارکان نے ملک میں ریپ کے واقعات میں کمی نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور جیا بچن سمیت بعض ارکان نے ہجوم کے ہاتھوں مجرموں کے قتل کی حمایت کی تھی۔

ریپ کے خلاف سخت قوانین بنانے اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے باوجود ملک میں خواتین کے خلاف جرائم اورریپ کی وارداتوں میں کمی نہیں آئی ہے۔ سات برس قبل دلی میں جب نربھیا کے اجتماعی ریپ اور قتل کا واقعہ رونما ہوا تھا تو اس وقت پورے ملک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اس واقعے نے عوام کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ حکومت نے اس واقعے کے بعد ریپ کے جرم کی سزا کو پھانسی تک بڑھا دیا اور ریپ کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی گئیں۔ لیکن خود نربھیا کے مجرموں کو ابھی تک سزا نہیں دی جا سکی ہے۔

ریپ جیسے سنگین جرم میں انصاف کی فراہمی میں طویل تاخیر کے سبب لوگوں کا نظامِ انصاف سے اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ لوگ اب ہجوم کے ہاتھوں انصاف کی طرف مائل ہونے لگے ہیں۔ حال ہی میں بعض ہندی فلموں میں بھی ریپ کے ملزموں کو پولیس کے ذریعے فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کی وکالت کی گئی تھی اور ان فلموں کو عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

قانونی کی بالا دستی جمہوری نظام کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا یا ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ہلاکت کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ حیدرآباد میں نومبر کے اجتماعی ریپ اور قتل کا واقعہ ملک کے نظام انصاف کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کے مبینہ ریپ اور قتل کے خلاف انڈیا بھر میں مظاہرے ہو رہے تھے

سنگین جرائم کے ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے تفتیشی اداروں اور عدلیہ کو بہت مؤثر طریقے سے اپنا کردارادا کرنا ہو گا تاکہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ قانون کی بالادستی کا قطعی احترام لازم ہے۔

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ‏

عدالت عالیہ نے ملزموں کی لاش کو تفتیش کے لیے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت آئندہ دنوں میں اس امر کی تفتیش کا حکم جاری کر سکتی ہے کہ آیا یہ مبینہ مقابلہ پولیس نے واقعی اپنے دفاع میں کیا جیسا کہ وہ دعویٰ کر رہی ہے، یا پھر اس نے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عوام کی اجتماعی نفسیات کے زیر اثر یہ قدم اٹھایا ہے۔

قانون کی بالا دستی کے لیے اس حقیقت کا تعین انتہائی ضروری ہے۔