انڈیا: ریپ کے مجرم مذہبی رہنما آسا رام کو جیل پہنچانے والی لیڈی پولیس افسر

،تصویر کا ذریعہCHANCHAL MISHRA
'اگر آپ سچ کے لیے لڑ رہے ہیں اور کسی با اثر شخص کے خلاف اور کسی غریب کے حق میں لڑ رہے ہیں تو دباؤ زیادہ اور کام مشکل ہو جاتا ہے اور زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے'۔
یہ الفاظ اُس خاتون پولیس افسر کے ہیں جنہوں نے نابالغ لڑکی کا ریپ کرنے والے مجرم باپو آسا رام کے معاملے کی تحقیقات کی تھی۔
2010 میں راجستھان پولیس میں شامل ہونے والی پولیس افسر چنچل مشرا کے لیے اس معاملے کی تحقیقات آسان نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہCHANCHAL MISHRA
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ آسا رام کو اندور میں گرفتار کیا گیا، دلی میں ایف آئی ار درج ہوئی اور متاثرہ لڑکی کا تعلق ریاست اتر پردیش سے ہے۔
بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے چنچل مشرا کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا دائرہ بڑا تھا اور الگ الگ ریاستوں میں جا کر ثبوت اکٹھا کرنا، گواہوں کو تلاش کرنا اور وقت پر تحقیقات مکمل کرنا مشکل تھا اور سب سے بڑی بات بابا کی گرفتاری تھی کیونکہ وہ ایک مشہور مذہبی رہنما ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چنچل کہتی ہیں کہ 'ہم آسا رام کو ٹھوس ثبوتوں کے بغیر گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے اور ہم نے ایسا ہی کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/Asarambapuji
چنچل نے مجرم کو کیسے گرفتار کیا؟
چنچل مشرا جب اپنی ٹیم کے ساتھ اندور آشرم پہنچیں تو آسا رام نے درس دینا شروع کر دیا اور پھر وہ آرام کرنے چلے گئے۔چنچل کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ملزم اپنی گرفتاری میں رکاوٹ پیدا کرے اور خود کو کمرے میں بند کر لے تو ہمارے پاس دروازہ توڑنے کا اختیار ہوتا ہے‘۔
چنچل کہتی ہیں کہ ’ہماری کوشش یہ تھی کہ ہم جتنی جلدی ہو آسا رام کو آشرم سے گرفتار کر کے لے جائیں۔ رات کا وقت تھا اور صبح کے وقت آشرم میں بھکتوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ ہمارے پاس دو گھنٹے کا وقت تھا، اور ہم اس بھیڑ سے پہلے ہی وہاں سے نکل جانا چاہتے تھے۔ کافی کوششوں کے بعد آسا رام کو رات ڈیڑھ سے دو بجے کے درمیان گرفتار کیا جا سکا۔‘
چنچل کہتی ہیں کہ ’آسارام کی گرفتاری کے بعد تقریباً ہر روز کورٹ میں پیش ہونا، ضمانت کی درخواست پر بحث، یہ تمام کام ساتھ چل رہے تھے اور اس کے ساتھ آپ کو اپنی ذاتی زندگی پر بھی توجہ دینی ہوتی تھی۔'
ایسی خبریں بھی آئی تھیں کہ چنچل مشرا کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب بی بی سی نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے محکمے کو خبر ملی تھی اور ضروری کارروائی کی گئی تھی لیکن وہ اس طرح کی منفی باتوں پر نہ تو توجہ دیتی ہیں اور ہی ان کا ذکر کرنا پسند کرتی ہیں، کیونکہ اگر ایسی باتیں سامنے لائی جائیں گی تو ’لوگ ہمارے کام سے متاثر ہونے کے بجائے خوفزدہ ہو سکتے ہیں‘۔
اس کیس میں عدالت نے آسا رام کو تاحیات قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔








