سرینگر: کشمیری خواتین کے مظاہرے پر پولیس کا دھاوا، سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کی بیٹی اور بہن گرفتار

سرینگر میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے خواتین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے بعد سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔
نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اس مظاہرے کا مقصد انڈیا کی حکومت کی جانب سے اگست میں علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔
دلی سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن سوشوبا بہورے اور حوا بشیر بھی مظاہرے میں شریک تھیں جنھیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔
حوا بشیر انڈیا کے سابق چیف جسٹس بشیر خان کی اہلیہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے
جب مظاہرین سرینگر کے لال چوک پر پریس کالونی کے قریب جمع ہونا شروع ہوئے تو خواتین پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے انھیں گھیر لیا۔
پولیس وین میں دھکیلے جانے سے پہلے عمر عبداللہ کی بہن ثریا نے کہا: ’دیکھو، یہ لوگ خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ یہاں صورتحال نارمل ہے۔ کیا یہ نارمل ہے؟‘
سماجی کارکن قراۃ العین نے بھی پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہویے کہا: ’انڈیا نے کشمیر کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔‘
’ہم یہاں پِس رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سب معمول کے مطابق ہے۔‘

کارکنوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’کشمیری دلہنیں برائے فروخت نہیں‘ اور ’قوم سے جھوٹ بولنا بند کریں‘ لکھا تھا۔
احتجاج میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا ’انڈین حکومت باہر سب سے کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے اور کشمیری لوگ خوش ہیں لیکن آپ نے ہمارے ساتھ جو کیا ہم اس سے خوش نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم سے کم یہ تو پوچھے کہ ہم خوش کیوں نہیں ہیں۔
پانچ اگست کے بعد سے حکومت نے فاروق عبداللہ، سجاد لون، شاہ فیصل اور محبوبہ مفتی سمیت 200 سیاسی رہنماؤں کو یا تو گرفتار کر لیا یا انھیں ان کے گھروں میں قید کر دیا تھا۔
نئی دلی کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے ہی کشمیر کے حالات کشیدہ ہیں۔
آرٹیکل 370 کے تحت گذشتہ چھ دہائیوں سے غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے، ملازمتیوں کے لیے درخواست دینے یا ریاست میں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔











