انڈیا کا خلائی مشن: ’انڈین وزیر اعظم کی موجودگی چندریان 2 مشن کے لیے برا شگون‘

مودی

،تصویر کا ذریعہDD News

انڈیا کا چندریان-2 مشن کامیاب رہا یا ناکام ابھی اس بات پر بحث جاری ہی تھی کہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلی نے اس بحث کو ایک دوسرا رخ دے دیا۔

کرناٹک کے سابق وزیر اعلی اور جنتا دل سکیولر کے سربراہ ایچ ڈی کماراسوامی نے ایک نئے تنازعے کو ہوا دی ہے جس پر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔

انڈین میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا انڈیا کے خلائی تحقیقی ادارے اسرو میں چھ ستمبر کو پہنچنا وکرم لینڈر کے چاند پر اترنے کے لیے برا شگون ثابت ہوا۔

انھوں نے میسور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’مجھے پتہ نہیں لیکن شاید ان کے قدم رکھنے کا وقت اسرو کے سائنسدانوں کے لیے برا شگون ثابت ہوا۔‘

انھوں نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا اور کہا ’وزیر اعظم مودی چھ ستمبر کی شب کو ملک کے عوام کو یہ پیغام دینے کے لیے بنگلورو پہنچے کہ وہ چندریان لانچ کے پس پشت ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا در حقیقت یہ پروجیکٹ سنہ 09-2008 کی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کی حکومت اور سائنسدانوں کا تھا۔

کماراسوامی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کماراسوامی نے کہا ’بے چارے سائنسدانوں نے 12-10 سال تک محنت کی۔ چندریان 2 کی منظوری کابینہ نے 09-2008 میں ہی دے دی تھی اور اسی سال مختص فنڈ بھی جاری کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ (مودی) یہاں شہرت حاصل کرنے کے لیے اس طرح آئے گویا چندریان 2 کے پس پشت وہی تھے۔‘

اس سے قبل سات ستمبر کو کماراسوامی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ انھیں ’اسرو کے عہد اور ثابت قدمی پر فخر ہے اور اسرو ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ کو بہتر کامیابیاں ملنے والی ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

کماراسوامی کے اس بیان کی سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں تنقید ہو رہی ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر مودی چندریان 2 کے لیے برا شگون ہیں تو کمارا سوامی کرناٹک کے لیے اور ملک کے لیے برا شگون ہیں لیکن بعض ان کے بیان کو ان کی سیاسی چال کہہ رہے ہیں۔

سوگاتا راجو نامی ایک صارف نے لکھا: ’سائنس کی زبان بی جے پی اور اس کے بھکتوں کو تکلیف نہیں دے گی لیکن خوش قسمتی اور بدقسمتی کی زبان انھیں تکلیف دے گی اور پریشان کرتی رہے گی۔ کماراسوامی کی ثقافتی سیاست کو سمجھیں۔ ابھی یہ ڈیٹا اور آئن سٹائن کی بحث سے زیادہ کار گر ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اس کے برعکس ایک صارف نے لکھا: 'کمارا سوامی: وزیر اعظم مودی چندریان 2 کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ ان کی موجودگی ’برا شگون‘ تھی۔

'بائیں بازو کے لوگوں نے چندریان کے لانچ سے قبل پوجا کا مذاق اڑایا تھا اور اسے توہم پرستی کہا تھا۔ اب صرف مودی کو نشانہ بنانے کے لیے انھوں نے شگون میں یقین کرنا شروع کر دیا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

خیال رہے کہ اسرو کے سربراہ کے سیون کو چندریان 2 مشن کی کامیابی کے لیے مندر میں پوجا کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سائنس میں توہم پرستی کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن ان سے قبل بھی اسرو کے سربراہ ترومالا مندر جا کر بڑے خلائی مشن کی کامیابی کے لیے پوجا کر تے رہے ہیں۔

نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنچندریان 2 مشن کے چاند پر اترنے سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کے لیے بنگلور میں واقع اسرو کے صدر دفتر میں موجود تھے

انڈین میگزن آوٹ لک مین شائع ایک مضمون میں آرٹیٹکٹ اور ماہر تعلیم فہد زبیری نے لکھا ہے کہ اسرو کے سربراہ کے اس اقدام کی اس لیے مذمت کی جانی چاہیے کہ انھوں نے ہندوستان کے آئین کے دو آرٹیکلز کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک یہ کہ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے اور اس لیے کسی سرکاری ادارے کے سربراہ کا کسی خاص مذہب کی جانب رجحان اس کی خلاف ورزی ہے اور دوسرے آرٹیکل 51 (اے) کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں ’سائنسی مزاج پیدا کرنے‘ کی بات کی گئی ہے۔