چندریان: کامیاب یا ناکام

چندریان جہاز کو بائیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو خلاء میں روانہ کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنچندریان جہاز کو بائیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو خلاء میں روانہ کیا گیا تھا

بھارت کی طرف سے دس ماہ قبل خلا نورد کے بغیر خلا میں بھیجے جانے والے خلائی جہاز چندریان کا مشن اگرچہ وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا ہے لیکن بھارت کے اس مشن کو ملی جلی کامیابی قرار دیاگیا ہے۔

کیا بھارت کا پہلا خلائی مشن کامیاب تھا یا ناکام؟

خلائی مشن کی مکمل کامیابی کے بارے میں حتمی جواب دینا ممکن نہیں ہے لیکن بظاہر یہ نہ تو ایک کامیاب اور نہ ہی نا کام تجربہ تھا۔ یہ ایک مہنگا خلائی منصوبہ تھا جس کے بہت سارے مقاصد تھے۔اس منصوبے کو کسی سے خفیہ نہیں رکھا گیا تھا اور اس کے تجربہ سے لوگوں کی بہت سارے امیدیں وابستہ تھیں۔

سو ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے چندریان خلائی جہاز کو بائیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع شری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز سے روانہ کیا گیا تھا۔

پہلے خلائی جہاز کا ڈیزائن تیار کرنے کا کام ہندوستان کے خلائی ادارے ’اسرو‘ نے شروع کیا تھا اور بہت ساری مشکلات کے باوجود اسے کامیابی سے مدار میں بھیج دیا تھا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس سے پہلے روس یا امریکہ پہلی بار خلائی جہاز کو کامیابی سے مدار میں بھیجنے میں نا کام رہے تھے اور اپنے تجربات سے سیکھتے ہوئے بعد میں انہوں نے کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن بھارت نے اپنے تجربے سے خلائی جہاز کو کامیابی سے مدار میں روانہ کر دیا۔

تو کیا ہندوستان گزشتہ کامیابیوں کی بنیاد پر چل رہا تھا؟ یقیناً نہیں۔چاند پر جانے کے لیے تکنیک اور جانکاری صرف پتہ کرنے سے معلوم نہیں ہوتی ہے اور یہ ہر قوم کو خود ہی سیکھنا پڑتی ہے۔ بھارت نے تجربہ کیا اور انتہائی کامیابی سے کیا۔

چندریان
،تصویر کا کیپشنکیا ہندوستان کے خلائی ادارے نے خلائی جہاز کی صلاحیت کا اندازہ غلط لگایا تھا

بھارت کی طرح پہلی ہی بار میں خلائی جہاز کو مدار میں چھوڑنے کا کامیاب تجربہ چین نے سنہ دو ہزار سات میں کیا تھا اور چین کے قومی خلائی ادارے کے مطابق ان کا جہاز سولہ ماہ تک خلاء میں رہا۔

ہندوستان کا خلائی مشن خلاء میں تقریباً دس ماہ تک رہا جبکہ باقی ممالک کے خلائی مشن چاند پر اس سے کہیں کم عرصہ رہے۔

کیا ہندوستان کے خلائی ادارے نے خلائی جہاز کی صلاحیت کا اندازہ غلط لگایا تھا جب انہوں نے جہاز کو چوبیس ماہ تک خلاء میں رکھنے کی منصوبہ بندی کی تھی؟

یہ ممکن ہے۔ اس کا جواب خلائی ادارے کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے معلوم ہو گا۔ اگرچہ خلائی ادارے کی طرف سے اس مشن کو انجنئیرنگ کی کامیابی قرار دیا گیا ہے لیکن خلائی جہاز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

راکٹ سے ایندھن کے اخراج کی وجہ سے خلائی جہاز کی روانگی رکتے رکتے رہ گئی تھی۔ اس کے علاوہ چاند کے مدار میں پہنچے کے چند روز بعد بجلی فراہم کرنے والا نظام خراب ہو گیا جس کے بعد متبادل نظام سے بجلی فراہم کی گئی۔

اس کے بعد چاند کی حرارت کی وجہ سے خلائی جہاز حد سے زیادہ گرم ہونا شروع ہو گیا۔اس بارے میں خلائی ادارے کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے بہترین اقدامات کے باعث خلائی جہاز کو بچا لیا گیا۔

اس مشن کے چند ماہ بعد ہی خلائی جہاز کا رہنمائی کرنے والا نظام سٹار سینسر چاند کی تابکار شعاعوں کے باعث خراب ہو گیا۔اس کے علاوہ خلائی جہاز جب بھی کوئی خرابی پیش آئی خلائی ادارے کے سائنسدانوں نے اس کو حل کیا اور مشن کو جاری رکھا۔

آخر کار انتیس اگست دو ہزار نو کو خلائی ادارے کا خلائی جہاز کے ساتھ تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ شاید اس کے بجلی فراہم کرنے والا نظام اس کی وجہ بنا۔ اس کے ایک روز بعد خلائی ادارے نے اس مشن کے ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس ادارے کے سربراہ مدھون نائر نے اس مشن کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا۔

چندریان کے مشن کو ہم ایک مشن میں دو مشن کہہ سکتے ہیں۔ ایک تو سٹیلائٹ نے چاند کے سو کلومیٹر اوپر مدار میں گردش کرنی تھی اور پھر کمپیوٹر سکرین کے حجم کے برابر ایک آلے نے چاند کی سطح پر اترنے کی کوشش کرنی تھی۔

خلائی جہاز نے یہ کارنامہ چودہ نومبر دو ہزار آٹھ میں انجام دے دیا تھا۔ کوئی بھی ملک اس قسم کے دو مشن اکٹھے انجام دینے میں کامیاب نہیں رہا۔ اس کے علاوہ اس مشن میں کئی ایسے کارنامے سر انجام دیے گئے جو دنیا میں پہلی بار کیے گئے تھے۔

بھارتی خلائی ادارے نے اس مشن پر سو ملین ڈالر کے اخراجات کیے اور مقررہ وقت میں خلائی جہاز کو مدار میں بھیجا اور یہ منصوبہ بنانے کے آٹھ سال کے اندر اندر اس پر عمل کیا گیا۔

خلائی جہاز میں گیارہ مختلف انتہائی جدید آلات تھے اور یہ مشن چاند کے لیے گئے مشنوں میں سے بڑے مشن میں شمار ہوتا ہے۔

چندریان ون چاند پر پانی کی تلاش کے لیے سب سے پہلا اور سب سے جامع مشن تھا۔ چندریان پر موجود ایک امریکی ریڈار کے ذریعے چاند پر موجود گڑھوں میں پانی کی تلاش کی گئی۔یہ گڑھے اتنے گہرے اور تاریک ہیں کہ صرف ریڈار کے ذریعے سگنل بھیجنے سے پانی کی موجودگی کا علم ہو سکتا ہے۔سائنسدان اس اس ریڈار کے سگنل سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے بہت خوش ہوئے۔

پال سپوڈیس جو ہیوسٹن میں لیونر اور پلینیٹری انسٹیٹوٹ میں کام کرتے ہیں کا کہنا ہے ’ریڈار سے ملی ہوئی تصاویر اتنی خاص نہیں لیکن چاند کی مجموعی ارضیاتی تاریخ جاننے میں مددگار ہوں گی۔‘

پلاوا بگلہ بھارتی چینل نیو دلی ٹی وی میں سائنس ایڈیٹر ہیں۔