کابل: حملے میں بچ جانے والے دلہے نے کہا کہ 'میں زندگی میں پھر کبھی خوشی نہیں دیکھ سکوں گا'

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Mohammad Ismail
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک شادی کی تقریب میں ہفتے کے روز خودکش حملے کے بعد دولہے نے کہا ہے کہ اس جان لیوا حملے کے بعد ان کی ساری امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں میر واعظ علمی نے کہا کہ اس حملے میں ان کی دلہن تو بال بال بچ گئیں لیکن حملے میں ہلاک ہونے والے 63 افراد میں ان کا بھائی اور متعدد دوسرے رشتے دار شامل ہیں۔
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ملک کے صدر اشرف غنی نے اسے 'وحشیانہ' حملہ قرار دیتے ہوئے طالبان پر 'شدت پسندوں کو پلیٹ فارم دینے' کا الزام عائد کیا ہے۔
جبکہ طالبان نے جو کہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں مشغول ہیں اس حملے کی مذمت کی ہے۔
طلوع نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے میر واعظ علمی نے بتایا کہ انھوں نے بھرے ہوئے شادی کے ہال میں کیسے طرح مسکراتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا اور پھر چند ہی گھنٹے بعد ان کی لاشوں کو وہاں سے لے جاتے ہوئے دیکھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'میرے گھر والے، میری اہلیہ سب صدمے میں ہیں۔ وہ بات کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ میری دلہن رہ رہ کر بیہوش ہو جاتی ہے۔'
'میری امیدیں ختم ہوچکی ہیں۔ میں نے اپنے بھائی کو کھو دیا۔ اپنے دوست کھو دیے۔ اپنے رشتے دار کھو دیے۔ میں زندگی میں پھر کبھی خوشی نہیں دیکھ سکوں گا۔'
انھوں نے مزید کہا: 'اب مجھ میں جنازے میں شرکت کی ہمت نہیں ہے۔ میں بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تکلیف ہم افغانوں کی آخری نہیں ہے یہ جاری رہیں گی۔'
دلھن کے والد نے افغان میڈیا کو بتایا ہے کہ حملے میں ان کے کنبے کے 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شادی کے دن کیا ہوا؟
دولت اسلامیہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ایک جنگجو نے 'بڑی تعداد میں جمع لوگوں' کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دوسروں نے ایمرجنسی سروسز کی آمد پر 'دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی کو اڑا دیا'۔
یہ حملہ شیعہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے میں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنی مسلم تنظیمیں طالبان اور دولت اسلامیہ افغانستان اور پاکستان میں اقلیتی شیعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔
شادی میں شریک مہمانوں میں سے ایک 23 سالہ منیر احمد خود ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ایک کزن مرنے والوں میں شامل ہیں۔
انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'جب لوگ ناچ رہے تھے اور جشن منا رہے تھے تو اسی وقت دھماکہ ہوا۔'
'دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی۔ ہر طرف سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے لیے رو رہے تھے۔'
افغانستان میں شادیاں اکثر بڑے ہالز میں ہوتی ہیں جن میں مرد مہمانوں اور خواتین مہمانوں کے بیٹھنے کے علیحدہ انتظامات ہوتے ہیں۔
دھماکے کے بعد رد عمل؟
صدر اشرف غنی نے ٹویٹ پر کہا کہ انھوں نے 'سکیورٹی نظام کا جائزہ لینے اور سکیورٹی کی خرابی سے بچنے کے لیے' ایک اجلاس طلب کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے اس حملے کو 'انسانیت کے خلاف جرم' قرار دیا جبکہ افغانستان میں امریکی سفیر جان باس نے اسے 'انتہائی بدکاری' کا عمل قرار دیا۔
طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت 'اس حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔'
میڈیا میں جاری ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: 'دانستہ طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے وحشیانہ حملے کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
افغان امن مذاکرات میں کتنی پیش رفت؟
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پچھلے کچھ عرصے سے امریکی اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو جرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت اچھی طرح سے چل رہی ہے۔
انھوں نے کہا: 'ہم طالبان کے ساتھ اچھی بات چیت کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کے ساتھ بھی ہماری گفتگو مثبت رہی ہے۔
افغانستان میں نیٹو مشن کے تحت تقریباً 14000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانا چاہتے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ مرحلہ وار اپنی فوجیں واپس بلائے گا لیکن طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ شدت پسند گروہوں کو امریکی ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
طالبان کے نمائندے افغان حکومت کے مندوبین سے بھی امن کی بحالی کے لیے روڈ میپ تیار کرنے اور بالآخر جنگ بندی کے متعلق بات چیت شروع کریں گے۔
طالبان فی الحال افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے گریزاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان سے اس وقت تک بات نہیں ہو سکتی جب تک کہ امریکہ فوج کے انخلا پر رضا مند نہیں ہو جاتا۔
سنہ 2001 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد طالبان اب افغانستان میں پہلے کی نسبت زیادہ علاقوں پر قابض ہیں۔










