کابل حملہ: ’93 افراد زخمی، پانچوں حملہ آور ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان دارالحکومت کابل کے علاقے پل محمود خان میں پیر کی صبح خود کش حملے کے بعد لگ بھگ آٹھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں حکام نے پانچوں خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ اس حملے میں ابھی تک تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ کابل میں صبح نو بجے کے قریب کار بم دھماکہ ہوا جس کے بعد خودکش حملہ آور ایک عمارت میں داخل ہو گئے تھے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ صبح نو بجے کے قریب گلبہار ٹاور کے قریب وزارت دفاع کے لاجسٹک اینڈ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا اور پھر خودکش حملہ آور ایک زیر تعمیر عمارت کے اندر داخل ہو گئے۔
حکام نے اب تک تین شہریوں کی ہلاکت اور 93 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
افغان وزرات صحت کے ترجمان نے ٹی وی پر بیان کے دوران بتایا کہ 93 افراد زخمی ہیں۔ حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ کابل میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
اُدھر وزارت تعلیم کے مطابق اس حملے میں قریبی ایک سکول کے پچاس طلبا بھی زخمی ہوئے ہیں اور پانچ سکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے، جن کے سیاسی دفتر کے رہنما پیر کو تیسرے روز بھی امریکہ کے ساتھ دوحہ کے مذاکرات میں شامل تھے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بھجوائے گئے ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ حملے کا ہدف وزارت دفاع کا لاجسٹک اور انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پرائیویٹ ٹی وی چینل شمشاد کا دفتر بھی اسی علاقے میں موجود ہے جس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے عملے کے کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسی علاقے میں افغان کرکٹ بورڈ، فٹ بال فیڈریشن اور کئی سرکاری اداروں کی عمارتیں موجود ہیں۔
گذشتہ روز بھی طالبان نے اپنے بیان میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں 50 حملے کرنے کی تصدیق کی تھی تاہم وزارت دفاع نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ زیادہ تر حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔
دوحہ میں طالبان سے مذاکرات جاری
کابل میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے ساتویں دور کا تیسرا دن ہے۔
پچھلے نو ماہ سے امریکہ اور طالبان رہنماؤں کے درمیان اب تک ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی ہے لیکن صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ یہ دور نتیجہ خیز ثابت ہوگا کیونکہ امریکہ کے پاس مزید وقت اور طالبان کے پاس مقصد نہیں ہے۔
'میرے خیال میں طالبان کے پاس کوئی خاص وژن نہیں ہے، خلیل زاد نے طالبان کو کئی طرح کی پیشکش کی ہیں، لیکن طالبان اُن کی ہر پیشکش کا اس طرح جواب دیتے ہیں کہ آیا یا تو اُن کو سفارتکاری کا پتہ نہیں ہے یا پھر مذاکرات کو مذاق سمجھتے ہیں'۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان مذاکرات کے پہلے دن بی بی سی کو بتایا تھا کہ مذاکرات کا یہ دور اہم ہے اور اس میں اُن کے مطابق مثبت پیش رفت ہوگی۔
اُدھر کابل میں رکن پارلیمنٹ شینکئی کڑوخیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے پاس یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اس پر غور کریں اور جمہوری طریقے سے سیاست میں حصہ لیں۔
ان کا کہنا تھا 'طالبان کو اس موضوع پر غور کرنا چاہیے اور اس سے فائدہ اُٹھائیں، مذاکرات کریں اور جمہوری طریقے سے افغانستان کی سیاست میں حصہ لیں‘۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کے لیے تیار ہے 'لیکن واشنگٹن نے طالبان کو فوج کے انخلا کی کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق انہیں امید ہے کہ افغانستان میں رواں برس 28 ستمبر کو ہونے والے افغان صدارتی انتخابات سے قبل افغانستان میں امن معاہدہ ہو جائے گا۔
کابل کے ایک شہری نے اس دھماکے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر طالبان مذاکرات میں کامیابی چاہتے ہیں، تو اس طرح حملے بند کریں۔
’اس طرح کے مذاکرات اور اس طرح کے حملے میرے خیال میں مذاکرات پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ ان حملوں سے نہ صرف افغان عوام بلکہ انٹرنیشنل کمیونٹی کے لیے اُن کی سیریسنس واضح ہورہی ہے۔ اگر طالبان واقعی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، تو اُن سے افغان عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ اس طرح کے حملے بند کریں‘
اگرچہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ طالبان کے حملے بھی جاری ہیں، لیکن افغان وزارت داخلہ کے مطابق دارالحکومت کابل میں گزشتہ سال کی نسبت پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور طالبان کے کئی حملوں کو سیکورٹی اہلکاروں نے ناکام بنائے ہیں۔










