انڈیا: مذہبی تقریب کے لیے ہاتھیوں کی منتقلی کا حکم ’شدید گرمی کے پیشِ نظر’ معطل

جگن ناتھ مندر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناحمد آباد کے جگن ناتھ مندر میں ہاتھیوں کا سالانہ جلوس منعقد کیا جاتا ہے جس میں وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک ہوتے رہے ہیں

انڈیا کی ریاست آسام میں محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے چار ہاتھیوں کو 3100 کلومیٹر طویل سفر پر بھیجنے کے منصوبے پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

ان ہاتھیوں کو ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ایک مندر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے ریاست آسام سے بھیجا جانا تھا۔

مگر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ شدید گرمی کے موسم میں یہ طویل سفر جانوروں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

ان تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ سفر دوران شدید درجہ حرارت جانوروں کی موت کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متروک کیے گئے پلان کے مطابق ان ہاتھیوں کو جگن ناتھ مندر میں ہونے والی سالانہ رتھ یاترا میں شرکت کے لیے چار جولائی سے پہلے احمد آباد پہنچنا تھا۔

آسام سے احمد آباد تک کا فاصلہ ٹرین کے ذریعے طے کرنے میں عموماً تین سے چار دن لگتے ہیں۔

ہاتھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ سفر دوران شدید گرمی ہاتھیوں کی موت کا بھی باعث بھی بن سکتی ہے

جمعرات کو ایک تحریری حکم نامے میں آسام کے محکمہ جنگلی حیات کی اعلیٰ ترین اہلکار رنجنا گپتا نے کہا کہ ہاتھیوں کی منتقلی کی اجازت ’معطل‘ کی جا رہی ہے۔

ایک پیراگراف پر مشتمل مختصر حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ ’انڈیا کے شمال مغربی علاقوں میں گرمی کی حالیہ لہر کے پیشِ نظر‘ کیا جا رہا ہے۔

جانوروں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے لیے سرگرم کارکنان نے، جنھوں نے ہاتھیوں کی منتقلی کے منصوبے کو ظالمانہ اور مکمل طور پر غیر انسانی قرار دیا تھا، اس نئے حکم نامے کا خیر مقدم کیا ہے۔

کئی افراد نے سوالات اٹھائے تھے کہ جب ہاتھیوں کے مجوزہ روٹ پر واقع کئی مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سے بھی زیادہ ہے تو ایسے وقت میں جانوروں کو کیوں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ہاتھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمندر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس برس ہونے والی ہاتھیوں کے سالانہ جلوس میں مودی کی شرکت کی امید نہیں کی جا رہی

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے چند کارکنوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں پٹیشن تک دائر کی تھی جس میں محکمہ جنگلی حیات کے حکام سے جانوروں کے تحفظ اور ان کی صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

گذشتہ چند برسوں میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے، جو کہ خود بھی گجرات سے تعلق رکھتے ہیں، اس میلے اور ہاتھیوں کے جلوس میں شرکت کر رہے ہیں مگر مندر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس برس ان کی شرکت کی امید نہیں کی جا رہی۔

مندر کے ایک ٹرسٹی نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ مندر کے اپنے تین ہاتھی گذشتہ سال اپنی طبعی عمر کو پہنچنے کے بعد مر گئے تھے اور اس وجہ سے انھوں نے آسام سے ہاتھی ’ادھار‘ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔