انڈیا: معروف مبلغ ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام

زاکر نائیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین پراسیکیوٹرز نے متنازع اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے غیر قانونی اثاثہ جات تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر ہیں تاہم ذاکر نائیک ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔

انڈین حکام نے ان پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ 53 سالہ ذاکر نائیک ’پیس چینل‘ پر مبینہ طور پر انتہاپسندانہ اسلامی نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

اگرچہ انڈیا میں اس چینل پر پابندی عائد ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس کے ناظرین کی تعداد 20 کروڑ ہے۔

پیس چینل کی براڈکاسٹنگ دبئی سے ہوتی ہے اور یہ ذاکر نائیک کی سربراہی میں چلنے والے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی ملکیت ہے۔

بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ بنگلہ دیش میں سنہ 2016 میں ایک کیفے پر حملے کیا گیا جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس حملے میں ملوث ایک حملہ آور ذاکر نائیک کے نظریات سے متاثر ہوا تھا۔

ذاکر نائیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں مالی بے ضابطگیوں کی تفتیش کے ذمہ دار ادارے انفورسٹمینٹ ڈائریکٹریٹ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ممبئی میں موجود اکاؤنٹس کے حوالے سے منی لانڈرنگ کے الزامات گذشتہ روز عائد کیے۔ ادارے نے عدالت کو بتایا کہ اسے لاکھوں ڈالر کے اثاثہ جات کا پتا چلا ہے جو مجرمانہ کارروائیوں سے بنائے گئے۔

ادارے نے مزید الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اشتعال انگیز تقاریر اور لیکچرز نے انڈیا کے مسلمان نوجوانوں کو پرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر ابھارا ہے۔

ایجنسی نے ان پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انھوں نے مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز کو انڈیا میں جائیداد خریدنے اور ان تقاریب پر لگایا ہے جہاں وہ 'اشتعال انگیز ' تقاریر کرتے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ رقم قانونی اور جائز طریقے سے حاصل کی ہے۔

ذاکر نائیک کون ہیں؟

ڈاکٹر ذاکر نائیک مذہبی طور پر بنیاد پرستانہ خیالات کی وجہ سے متنازع سمجھے جاتے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم القاعدہ کی تقلید کرنے والے بہت سے افراد نے قید کے بعد تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ذاکر نائیک سے بہت متاثر ہوئے۔

ذاکر نائیک کے برطانیہ میں داخلے پر سنہ 2010 میں پابندی عائد کی گئی تھی اور وجہ ان کی تقاریر اور 'ناقابل برداشت رویہ' قرار دی گئی تھی۔

تاہم جولائی 2016 میں ڈھاکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد انھیں دوبارہ بین الاقوامی سطح پر توجہ ملی۔ یہ وہ موقع تھا جب ڈھاکہ پر حملے کرنے والوں میں سے ایک گن مین نے دعویٰ کیا کہ وہ ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی ماہ کے دوران پھر بنگلہ دیش کی حکومت نے ذاکر نائیک کے 'پیس ٹی وی ' پر پابندی عائد کر دی۔

نومبر 2016 میں انڈیا کے ادارہ برائے انسداد دہشت گردی نے ذاکر نائیک کے خلاف شکایت میں الزام لگایا کہ وہ مذہبی نفرت اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

ذاکر نائیک سنہ 2017 میں ملائیشیا چلے گئے تھے۔