یابا: ایک سستا نشہ جو بنگلہ دیشی قوم کو کھائے جا رہا ہے

یابا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, لِنڈا پریسلی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

بنگلہ دیش میں ہزاروں افراد کو یابا نامی ایک نشہ آور گولی کی لت لگ چکی ہے۔ یابا میتھ ایمفیٹامین اور کیفین کے مرکب سے تیار کی جاتی ہے جسے لال اور گلابی رنگ کی گولیوں کی صورت میں سستے دام فروخت کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سرکاری ردعمل سخت رہا ہے جس کے باعث سینکڑوں لوگ مبینہ طور پر فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

’میں سات، آٹھ حتی کہ 10 دن تک جاگتا رہا۔ میں صبح، دوپہر، شام اور دیر رات کو بھی یابا کا استعمال کرتا، جس کے بعد ساری رات کام کرتا رہتا۔‘

محمد اس نشے کے عادی تھے جو متواتر بہت دیر جاگتے رہنے کے بعد ایک دم تھک ہار کر بےہوشی کی سی کیفیت میں چلے جاتے تھے۔

’میں بے ہوش ہوجاتا تھا۔ میں بالکل گر کر مر جاتا تھا۔ دو تین روز بعد جب اٹھتا تو کھانا کھا کر دوبارہ سو جاتا تھا۔ البتہ اگر میرے پاس یابا ہوتی تو میں لے لیتا، اگر آپ کے پاس ایک گولی بھی ہوتی تو آپ بھی لے لیتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈھاکہ میں کام کے دوران محمد یابا کے نشے میں مبتلا ہوئے۔

’ہمارا جاپان سے درآمدات کا کاروبار تھا اور ٹائم ڈفرنس کے باعث رات میں کام کرنا پڑتا تھا۔ میرے ایک ساتھی نے مجھے یابا کے متعلق بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں اس کا استعمال کروں گا تو نہ صرف میں جاگتا رہوں گا بلکہ توانائی سے بھرپور رہوں گا اور دن رات کام کر پاؤں گا۔‘

ابتدا میں محمد نے اپنے ساتھی کے بیان کردہ فوائد کو بذات خود محسوس کیا مگر وہ بہت عارضی تھے۔ محمد جلد ہی بے چینی کا شکار ہوگئے اور بے سدھ ہونے کے بہت قریب بھی پہنچ گئے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر عاشق سلیم کا کہنا ہے کہ ’یابا استعمال کرنے کے ابتدائی مراحل میں بہت سے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔ ہر چیز یابا کی بدولت بہتر لگنے لگتی ہے۔

محمد اور اس کی بیوی نے یابا کی وجہ سے بہت مشکلیں دیکھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمحمد اور اس کی بیوی نے یابا کی وجہ سے بہت مشکلیں دیکھی ہیں۔

’آپ مزید ملنسار بن جاتے ہیں۔۔۔ موسیقی، تمباکو نوشی اور سیکس سے آپ زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ایک خطرناک حد تک یابا اور سیکس کو ایک دوسرے سے لنک کیا جا رہا ہے۔ آپ زیادہ دیر تک جاگے رہتے ہیں، آپ توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں اور زیادہ پُر اعتماد ہوتے ہیں۔ اگر آپ یابا کا استعمال کرنا بند کردیں تو ہیروئن اور شراب کی مانند اس کے چھوڑنے کے بعد کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ البتہ یابا کے اثرات بہت نشہ آور ہیں اور یہ ایک انتہائی خطرناک گولی ہے۔‘

یابا بنگلہ دیش میں پہلی مرتبہ سنہ 2002 میں منظر عام پر آئی اور اس کے بعد سے اس کے استعمال یا غلط استعمال میں تسلسل کے ساتھ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ میانمار میں بڑے پیمانے پر اسے غیر قانونی طور پر بنایا جاتا ہے جس کے بعد ان منشیات کو بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی علاقے میں سمگل کیا جاتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کا وہ سرحدی علاقہ ہے جہاں دریائے ناف بہتا ہے۔

یہ وہ دریا ہے جسے پار کر کے روہنگیا پناہ گزین برما کی فوج سے بچنے کے غرض سے سنہ 2017 میں بنگلہ دیش داخل ہوئے تھے۔ اب تقریباً دس لاکھ لاچار پناہ گزین عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ البتہ منشیات کے ڈیلروں نے کامیابی کے ساتھ ان میں سے کچھ افراد کو اپنی سرپرستی میں لے لیا ہے جن میں سے بیشتر خواتین ہیں جو گولیاں اپنی اندام نہانی میں چھپا کر سمگل کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسے وقت جب بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے، سمگلررز ایک بڑی مقدار میں یابا کو سستے دام فروخت کر کے ایک وفادار مارکیٹ تشکیل دے رہے ہیں۔

محمد نے بتایا 'میرا سارا دار و مدار انھی پر تھا۔' محمد کی اہلیہ، نصرت جو اس وقت اپنے نومولود بچے کی دیکھ بھال کر رہی تھی کہتی ہیں کہ ان کے رویے میں بتدریج تبدیلی آتی جا رہی تھی۔

انھوں نے بتایا: 'وہ گھر آتا تھا اور ہر بات کا الزام مجھ پر ڈالتا تھا چاہے وہ اس کے دوستوں سے متعلق ہو، کھانے کے متعلق ہو، یا میری نوکری کے بارے میں کوئی بات ہو، یہ بہت عجیب سا تھا اور اس کے مزاج کے مطابق بالکل نہیں تھا۔'

اس کے بعد نصرت کو گھر سے 'یابا' ٹیبلیٹس ملیں تو انھوں نے محمد کو آڑے ہاتھ لیا۔

مقامی حکام پر الزام ہے کہ یابا سے نمٹنے کے لیے وہ جعلی مقابلوں میں لوگوں کو مار رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنمقامی حکام پر الزام ہے کہ یابا سے نمٹنے کے لیے وہ جعلی مقابلوں میں لوگوں کو مار رہے ہیں

'وہ مجھ پر چیخا چلایا۔ میں نے اسے منانے کی کوشش کی کہ وہ اپنے علاج کے لیے جائے لیکن وہ اپنی اس لت کا اعتراف ہی نہیں کر رہا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ کیا تم کسی اور کے پاس جانا چاہتی ہو، مجھے چھوڑ دینا چاہتی ہو؟ مجھے محمد کے ان سوالات سے بہت مشکل وقت دیکھنے کو ملا لیکن مجھے یہ بھی علم تھا کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، یہاۂ تک کہ ہمیں قتل بھی کر سکتا ہے۔'

ڈھاکہ میں ماہر نفسیات عاشق سلیم کے مطابق یابا نے ان کے ملک میں وہ خلا پر کی ہے جو بنگلہ دیش میں شراب کی فروخت پر پابندی کے باعث ہے اور جہاں شراب نوشی کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا 'میرے پاس ایک مرد آیا جو کافی عام سی زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے والدین روایتی خیالات کے حامل تھے۔ تو جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتا تھا تو وہ لوگ شراب نوشی کرتے تھے اور وہ خود کبھی نہیں کرتا تھا اپنے والدین کے ڈر سے۔ پھر اسے یابا مل گئی۔ اس ٹیبلیٹ کو کھانے سے اس کی ظاہری حالات پر کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی بو آتی تھی۔'

لیکن یابا استعمال کرنے والے افراد اس عادت سے چھٹکارا پانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اور یابا کی کھلے عام فروخت اور اس سے ہونے والی تباہی نے بنگلہ دیش کی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یابا استعمال کرنے والے اور رکھنے والوں کے خلاف بھاری جرمانہ عائد کریں اور اس پر مکمل پابندی عائد کریں۔

ڈھاکہ کہ معروف کاکس بازار کے علاقے کے پاس موجود قصبے تکناف میں رہنے والے عبدالرحمان نے بتایا: 'میں مسجد سے آرہا تھا تو میں نے دیکھا کہ پولیس والے میرے گھر کے دروازے پر موجود ہیں۔‘

عبدالرحمان کے بیٹے عبد الکلام ایسے ہی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنعبدالرحمان کے بیٹے عبد الکلام ایسے ہی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے

'وہ میرے گھر داخل ہوئے اور انھیں میرا بیٹا عبدالکلام باتھ روم میں نظر آیا جسے انھوں نے حراست میں لے کر اسے ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اسے چھوڑ دیں، اس نے کیا قصور کیا ہے؟ پولیس والوں نے مجھ سے کہا کہ زیادہ بولا تو گولی مار دیں گے۔'

اسی دوران عبدالکلام نے انسانی سمگلنگ کے الزام میں جیل کاٹی تھی۔ اس مرتبہ پانچ روز تک جیل میں رکھنے کے بعد پولیس نے اس کے والد عبدالرحمان کو بہت بری خبر دی۔ 'پولیس نے بتایا کہ میرا بیٹا ایک پولیس مقابلے میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔'

عبدالکلام کی موت نو جنوری کو اس پولیس سٹیشن سے کچھ فاصلے پر ہوئی جہاں اسے قید کیا گیا تھا۔ میڈیا کے مطابق ایک اور آدمی اس واقعے میں ہلاک ہوا تھا اور ان کے پاس سے 20000 یابا کی گولیاں ملی تھیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق سنہ 2018 کے سات مہینوں میں حکومت کی جانب سے جاری انسدادِ منشیات آپریشن میں 300 افراد کا ملک بھر میں قتل ہوا ہے۔ اور خبروں میں یہ شک ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں سے مقابلے شاید 'جعلی' تھے۔

تاہم کاکس بازار کے ایس پی مسعود حسین اس رائے کو مسترد کرتے ہیں کہ یابا کے کاروبار میں ملوث افراد کے حوالے سے جعلی مقابلوں میں مار دینے کی پالیسی ہے۔

عبدالکلام کی موت کی وضاحت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہم جب تفتیش کے بعد کسی آپریشن پر ملزمان کو لے کر جاتے ہیں اور یابا کے تاجروں سے آمنا سامنا ہو تو فائرنگ کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا یہ ایک ایسا واقعہ ہو۔‘

کاکس بازار کے ایس پی مسعود حسین اس رائے کو مسترد کرتے ہیں کہ یابا کے کاروبار میں ملوث افراد کے حوالے سے جعلی مقابلوں میں مار دینے کی پالیسی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکاکس بازار کے ایس پی مسعود حسین اس رائے کو مسترد کرتے ہیں کہ یابا کے کاروبار میں ملوث افراد کے حوالے سے جعلی مقابلوں میں مار دینے کی پالیسی ہے۔

ان اموات کے تسلسل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کی کہانی ایک جیسی ہو سکتی ہے۔ ’جب واقعات ہی ایک سے ہوتے ہیں تو ہم کوئی اور کہانی کیوں بتائیں۔‘

فروری میں ایس پی نے ایک انتہائی نایاب عوامی تقریب کا انعقاد کیا۔ تکناف کے مقام پر ایک میلے جیسے ماحول میں 102 مقامی افراد نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ یہ سب مبینہ طور پر یابا کے تاجر تھے۔ ان میں سابق اراکینِ پالریمان کے رشتے دار تک شامل تھے۔ اس موقعے پر ساڑھے تین لاکھ یابا گولیوں کے پیکٹوں کی نمائش بھی کی گئی۔ گرفتاری دینے والے افراد کو وزیرِ داخلہ اسدزمان خان نے پھول بھی پہنائے۔

اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پورا ملک یابا سے بھرا ہوا ہے اور سکولوں کالجوں میں بچے بھی اس پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ ملزمان کی جانب دیکھ کر انھوں نے کہا کہ آپ کی یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے ملک سے یابا کو مٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے گرفتاری دی ہے۔ مگر ایک شخص محمد عالمگیر کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی شوکت عالم نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پولیس اس کا قتل کر دے گی۔

محمد عالمگیر کہتے ہیں کہ ’پولیس نے ایک لسٹ بنا رکھی ہے کہ کن لوگوں کا جعلی مقابلہ کرنا ہے۔ یہ سب سن کر میرا بھائی خوفزدہ ہوگیا اور اس نے گرفتاری دے دی۔‘

تکناف کے مقام پر ایک میلے جیسے ماحول میں 102 مقامی افراد نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ یہ سب مبینہ طور پر یابا کے تاجر تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتکناف کے مقام پر ایک میلے جیسے ماحول میں 102 مقامی افراد نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ یہ سب مبینہ طور پر یابا کے تاجر تھے۔

مگر ایس پی مسعود حسین کہتے ہیں کہ ایسی کوئی لسٹ نہیں ہے۔ ’ہم تو انھیں گرفتار ہی کرنا چاہتے تھے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ اس تقریب کے بعد سے کاکس بازار میں یابا کی تجارت میں 70 فیصد کمی آ گئی ہے۔

سنہ 2018 میں بنگلہ دیش کے حکام نے سوا پانچ کروڑ سے زیادہ یابا گولیاں پکڑیں۔ اس کاروبار کی کل لاگت کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بنگلہ دیش میں نشے کے عادی افراد کی تعداد کا کوئی درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کہتی ہے تقریباً 40 لاکھ ایسے افراد ہیں مگر غیر سرکاری ادارے کہتے ہیں کہ ایسے 70 لاکھ افراد ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی یابا صارفین ہیں۔

محمد کو یابا کے جو فوائد مل رہے تھے وہ جلد ہی منفی اثرات میں تبدیل ہوگئے۔ ’میں سارا وقت کنفیوژ رہتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کوئی میری بات سن رہا ہے میری جاسوسی کر رہا ہے۔‘

وہمی کیفیت یابا کے صارفین میں عام سی بات ہے۔

جیسے جیسے محمد کی زندگی کے حالات اور بگڑنے لگے تو ان کی فیملی نے خود ہی انھیں اغوا کروا کر ایک بحالی مرکز میں داخل کروا دیا۔ وہ شروع میں تو بہت مشکل میں تھے مگر اب وہ اس اقدام کے لیے شکر گزار ہیں۔ چار ماہ تک زیرِ علاج رہنے کے بعد اب ایک سال سے انھوں نے نشہ نہیں کیا ہے۔

ان کی بیوی نصرت کہتی ہیں ’اب شاید وہ ایک نوکری کے لیے تیار ہے۔ مگر میں اس کو مجبور نہیں کروں گی۔ اگر اس کو کوئی مدد چاہیے تو ہم سارے اس کے ساتھ ہیں۔‘