’شوہر کے پاس نشے کے لیے پیسے نہیں تھے سو اس نے مجھے بھی لت لگا دی‘

منشیات

،تصویر کا ذریعہVIK KANTH

    • مصنف, رویندر سنگھ رابن
    • عہدہ, بی بی سی پنجابی

’وہ میری زندگی کا سب سے بدترین دن تھا، میرے شوہر کی نوکری چلی گئی، ہم اپنے بچوں کے سکول کی فیس نہیں دے سکے اور ہر روز مجھے ایک دوا کی ضرورت تھی۔‘

یہ کہنا تھا کہ امرتسر کی رہائشی اور دو بچوں کی ماں پوجا (شناخت مخفی رکھنے کے لیے نام تبدیل کر دیا گیا ہے) کا۔ پوجا کے شوہر امرجیت (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) پنجاب اور راجستھان کے درمیان ٹرک چلایا کرتے تھے۔ امرجیت کا کہنا تھا کہ روزانہ آٹھ سے 12 گھنٹے ڈرائیونگ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔

اس دوران، ان کے ساتھی ٹرک ڈرائیوروں نے امرجیت کو تھکاوٹ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک مقامی نشہ آور جڑی بوٹی 'بھکھی' دی۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہو گئے اور جلد ہی انھوں نے ڈرائیونگ کے دوران ہوشیار رہنے کے لیے افیون کا استعمال شروع کر دیا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

دو سال کے اندر بھکھی اور افیون کے استعمال سے امرجیت ان کے عادی ہو گئے اور ان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ ان منشیات پر خرچ ہونے لگا تاکہ وہ اپنے ہوش و حواس میں رہ سکیں۔

منشیات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن یہ عادت صرف افیون کھانے تک محدود نہ رہی جب ایک ساتھی ٹرک ڈرائیور نے انھیں ہیروئن کی پیش کش کی۔

جب انھوں نے پہلی بار نشہ کیا۔۔۔

امرجیت ہیروئین پینے کے پہلے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'جب میرے ساتھی ڈرائیور نے مجھے ہیروئین پینے کی پیشکش کی تو پہلے میں تھوڑا گریزاں تھا لیکن بار بار اصرار پر جب میں نے پہلا کش لیا تو یہ ایک حیران کن تجربہ تھا، مجھے ایسا لگا کہ میرے تمام مسائل ختم ہوگئے ہیں اور میں اس زمین پر سب سے خوش شخص ہوں۔'

آہستہ آہستہ ہیروئین ان کی زندگی کا حصہ بن گئی اور وہ روزانہ دو گرام ہیروئین لینے لگے جس کی وجہ اس کی تمام بچائی ہوئی رقم اس پر صرف ہو گئی۔

ابتدائی طور پر امرجیت اپنے دوستوں یا ساتھی ڈرائیوروں کے ساتھ منشیات استعمال کیا کرتے تھے لیکن ان کی عادت بہت زیادہ بڑھتی گئی کہ وہ گھر میں اپنی بیوی پوجا کے سامنے بھی منشیات کا استعمال کرنے لگے۔

پوجا کہتی ہیں کہ 'اس پر مجھے تشویش ہوئی اور میں نے ان کی یہ عادت چھڑوانے کا فیصلہ کیا۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'میں اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی اور انھیں منشیات کی عادت کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔' اس دوران امرجیت کاغذ کی پنی پر ہیروئین پیتے رہے۔ ایسا پانچ چھ ماہ تک جاری رہا۔

منشیات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپنے شوہر سے باتیں کرتے کرتے وہ غیردانستہ طور پر مشیات کی لت کا شکار ہو گئیں۔

پوجا کہتی ہیں 'میرا شوہر ہیروئین پی رہا ہوتا اور مجھے اس وقت اس سے باتیں کرنا اچھا لگتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ میں منشیات کے دھوئیں کی عادی ہو گئی۔'

اور پھر ایک دن انھوں نے المونیم فوائل پیپر لیا، اس پر ہیروئین ڈالی اور نیچے سے سلگا کر اس کا دھواں سونگھا۔

'اس طرح میری زندگی کے برے دن شروع ہو گئے۔ مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی آسان اور آرام دہ ہو گئی ہے، لیکن یہ صرف ایک دھوکہ تھا، ایک غلطی تھی۔'

وہ کہتی ہیں کہ منشیات حاصل کرنے کے لیے ان کے شوہر کے پاس کافی رقم نہیں تھی۔ لہذا انھوں نے انھیں بھی منشیات کے عادی بنا دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے بھائی سے منشیات کے لیے پیسے طلب کرنا شروع کر دیے۔'

منشیات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'ہم نے سب کچھ کھو دیا۔ منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہم نے زمین فروخت کر دی۔ میرا 13 سالہ بیٹا اور 8 سالہ بیٹی سکول میں تھے لیکن ہم ان کی فیس ادا کرنے سے قاصر تھے۔'

پوجا کہتی ہیں کہ 'ہمارے دونوں پالتو کتے، جنھیں ہم بہت پیار کرتے تھے، ایک ایک کر کے مر گئے۔ شاید وہ بھی دھوئیں کے عادی ہو گئے تھے کیونکہ جب ہم ہیروئین لیتےتھے تو وہ کمرے میں رہتے تھے۔'

پوجا کا کہنا ہے کہ 'ایک دن جب میرا بھائی گھر آیا تو انھوں نے ہمارا بدلا ہوا رویہ محسوس کیا اور اسے احساس ہوا کہ ہم منشیات کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔انھوں نے ہمیں ڈاکٹر سے مدد طلب کرنے کی ہدایت کی۔'

'اب ہم دونوں کا ڈرگ ڈی اڈکشن سینٹر میں علاج کیا جا رہا ہے اور ہم امید کرتے کرتے زندگی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ہمیں اپنے بھائی اور دیگر رشتے داروں کی نگرانی میں رکھا جا تا ہے اور وہ ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑتے کہ کہیں ہم دوبارہ منشیات کا استعمال شروع نہ کر دیں۔'