سوشل میڈیا پر وائرل تصویر: ’یہ ابھینندن نہیں کوئی اور ہے‘

،تصویر کا ذریعہSM VIRAL POST
- مصنف, فیکٹ چیک ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
سوشل میڈیا پر وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان سے مشابہت رکھنے والے ایک شخص کی تصویر وائرل ہوئی ہے جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے دراصل یہ پائلٹ ابھینندن ہیں جنھوں نے نہ صرف بی جے پی کی بھرپور حمایت کی ہے بلکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ووٹ بھی دیا ہے۔
وائرل ہونے والی تصویر کے ساتھ تحریر میں کہا گیا ہے کہ 'وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان نے کھل کر بی جے پی کی حمایت کی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ووٹ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں مودی سے بہتر وزیر اعظم نہیں ہو سکتا۔ دوستوں! جہادیوں اور کانگریس کو بتا دیا جائے کہ وہ کسی بھی فوجی کو زندہ واپس نہیں لا سکتے'۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPakistan Information Ministry, ISPR
27 فروری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کی فضائیہ نے وِنگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ مار گرایا تھا جبکہ انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انھیں یکم مارچ کو واہگہ سرحد پر انڈین حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
بظاہر وائرل ہونے والی تصویر سے یہی لگتا ہے کہ ان کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اب سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دائیں بازو کے فیس بک گروپس جیسا کہ ’نیمو بھکت‘ اور ’مودی سینا‘ سے اس تصویر کو زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تصویر کو فیس بک اور ٹوئٹر پر ہزاروں مرتبہ دیکھا اور شئیر کیا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSM Viral post
بی بی سی کے وٹس ایپ صارفین نے بھی اس تصویر کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا اور بی بی سی نے پتہ لگایا ہے کہ اس تصویر کے بارے میں کیے گئے دعوے بے بنیاد ہیں اور یہ تصویر وِنگ کمانڈر کی ہے ہی نہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ پائلٹ انڈیا میں ہیرو بن گئے ہیں اور ان کی موچھیں بھی اتنی مقبول ہوئیں کہ لوگ ان جیسی موچھیں رکھنے لگے۔
اس تصویر میں موجود شخص نے ابھینندن جیسی موچھیں رکھی ہوئی ہیں، دھوپ کا چشمہ اور بی جے پی کے نشان والا سکارف پہنا ہوا ہے۔
وائرل ہونے والی اس تصویر کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈین فضائیہ کے پائلٹ اور تصویر میں موجود اس شخص کے چہرے کے خدوخال میں کافی مماثلت ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter search result
ابھینندن کے ہونٹوں کے نیچے بائیں جانب ایک تل ہے جو کہ تصویر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ تصویر میں موجود شخص کی دائیں آنکھ کے نیچے ایک تل ہے جبکہ ابھینندن کے نہیں ہے۔
تصویر میں اس شخص کے پیچھے ایک دکان ہے جس پر گجراتی زبان میں 'سموسہ سینٹر' درج ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصویر گجرات کی ہے اور اس ریاست میں ابھی عام انتخابات میں ووٹنگ نہیں ہوئی ہے۔
ابھینندن نے 27 مارچ کو سرینگر میں اپنے سکوارڈن کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے انھیں کام پر واپس آنے سے پہلے چار ہفتے آرام کا مشورہ دیا تھا لیکن انھوں نے سرینگر میں اپنے سکواڈرن میں اپنی خدمات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وہ ابھی بھی انڈین ائیر فورس میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور فضائیہ کے قواعد کے 'دی ائیر فورس رولز 1969' کے مطابق کسی بھی افسر کو کسی بھی سیاسی تنظیم یا تحریک سے منسلک ہونے یا حمایت کی اجازت نہیں ہے۔
انڈین ائیر فورس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ واضح ہے کہ تصویر میں موجود شخص ونگ کمانڈر ابھینندن نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وہ فیک نیوز کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کی رہائی کے چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر ان کے نام سے ایسے کئی اکاؤنٹ یہ دعویٰ کرتے دیکھے گئے تھے کہ وہ ابھینندن کا اکاؤنٹ ہے لیکن انڈین ائیر فورس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اس کی تردید کی تھی۔










