کرتارپور راہداری مذاکرات ختم، دونوں ملکوں کا کئی برسوں بعد مشترکہ بیان پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہBBC
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے کے مسودے پر ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے جس میں مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے مذاکرات کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے اجرا کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور دو اپریل کو واہگہ میں ہوگا جس میں مجوزہ کرتار پور راہداری کے لیے' زیرو پوائنٹس' کو حتمی شکل دینے پر بات چیت ہو گی۔ ان مذاکرات سے پہلے ماہرین انیس مارچ کو مجوزہ معاہدے کے تکنیکی امور پر مذاکرات کریں گے۔
اٹاری میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے۔
پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کی جبکہ انڈیا کی طرف سے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایس سی ایل داس نے کی۔
مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے کرتارپور صاحب راہداری کے بعض پہلوؤں پر بہت مفصل اور مثبت بات چیت ہوئی اور اس پر ا تفاق کیا گیا کہ منصوبے کو جلد شروع کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہForeign Office Pakistan
مذاکرات میں کیا طے پایا؟
ڈاکٹر فیصل نے مذاکرات کے بارے واہگہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ مذاکرات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ معاملات پر اختلافات ہیں لیکن میں اس کی تفصیلات بیان نہیں کر سکوں گا۔ انھوں نے کہ 2015 کے بعد دونوں ملکوں کے مابین ہونےو الے مذاکرات کے بعد پہلی بار مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جو بذات خود ایک کامیابی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیکنکل تفصیلات طے کرنے کے لیے کہ سڑک کہاں بنے گی، کتنی چوڑی ہو گی، زیرو پوائنٹس کہاں ہوں اس کے لیے ماہرین کی ملاقات اگلے منگل کو ہو گی۔
انھوں نے کہا مذاکرات انتہائی خوشگوار میں ہوئی۔
رواں برس جنوری میں پاکستان نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ انڈیا کے حوالے کیا تھا اور مںصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا جبکہ تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔
ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود یہ طے کر رہے ہیں کہ ویزا فری سفر کے لیے دوسری کون کون سے دستاویزات درکار ہوں گی۔ پاکستان اور انڈیا کی جانب سے راہداری کے لیے جو سڑک تعمیر کی جائے گی اس کو ایک دوسرے سے ملانے اور اس کے الائنمنٹ کے بارے میں بھی بات ہو رہی ہے۔

کرتارپور میں کیا ہو رہا ہے؟
دوسری جانب گرداس پور میں جہاں سے کرتار پور راہداری شروع ہوگی، راہداری اور مسافر ٹرمینل کے لیے زمینیں حاصل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا کی مرکزی حکومت نے ان کسانوں کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جن کی زمینیں ایکوائر کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اہلکار وہاں ان کھیتوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انڈین لینڈ پورٹ اتھارٹی کے اہلکار اکھل سکسینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ٹائم باؤنڈ پراجیکٹ ہوگا۔ اس کوریڈور کو 11 نومبر کو کھلنا ہے۔ اس وقت تک ہم یہاں ایک انتہائی جدید اور بڑا مسافر ٹرمینل تعمیر کریں گے۔ اس میں تمام مطلوبہ سہولیات ہوں گی۔'
ڈیرہ بابا نانک میں بین الا قوامی سرحد پر کئی میل کی دوری پر واقع گرونانک دیو کے گرودوارے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ سرحد پر دو طاقتور دوربینیں لگائی گئی ہیں جو اس گرودوراے پر فکسڈ ہیں۔ لوگ حسرت سے اس گرودوارے کو یہاں سے دیکھتے ہیں۔

عوامی ردعمل
راہداری کھلنے کی امید سے لوگ بہت خوش ہیں۔
درشن کے لیے یہاں آنے والی ایک سکھ خاتون نونیت کور نے کہا ’یہ بہت اچھا قدم ہے۔ اس سے ہم اس مقدس مقام کی زیارت کر سکیں گے، ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان یہ دوستی کا سبب بنے گا اور کشیدگی ختم ہوگی۔'
اٹاری کے بلجیندر سنگھ سندھو نے کرتار پور راہداری کے کھلنے کے امکان پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے مذہب کے بانی کا گرودوارہ ہے۔ یہ ہماری ارداس میں شامل ہے۔ یہ ہمارے جذبات کا حصہ ہے۔ لوگوں کی یہ تمنا ہے کہ یہ مقام کسی روک ٹوک کے بغیر کھول دیا جائے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'اس کے کھلنے سے دونوں دیشوں میں شانتی کا پیغام جائے گا۔ تناؤ میں کمی آئے گی۔ بنا سیاست کے یہ کام ہونا چاہئیے۔ عمران خان ایک اچھے وزیر اعظم ہیں۔'
زمینیں حاصل کرنے کے نوٹیفیکیشن کے اجرا کے ساتھ ہی کوریڈور میں آنے والے کسانوں نے اپنی زمینوں کا معاوضہ تین گنا بڑھا دیا ہے۔ مقامی لوگ بہت خوش ہیں کہ آنے والے دنوں میں گرداس پور کا یہ علاقہ ایک بڑے سیاحتی مرکز میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

کرتارپور کہاں ہے؟
کرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔
راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو بابا نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔
کرتارپور کے حوالے سے بی بی سی اردو کے دیگر مضامین

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی فضا
واضح رہے کہ یہ بات چیت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی جب پلوامہ حملے اور فضائی دراندازی کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
بالا کوٹ کے مبینہ فضائی حملے کے بعد انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس پس منظر میں اٹاری کی میٹنگ کو بہت لو پروفائل میں رکھا گیا ہے۔
اس ملاقات کے لیے اٹاری سرحد کا انتخاب بھی بظاہر اسی نکتہ نظر سے کیا گیا ہے کہ عوام کو یہ تاثر نہ جائے کہ پاکستان کے خلاف سخت بیانات اور کارروائیوں کے دعووں کے درمیان انڈیا اس سے مذاکرات کر رہا ہے۔
اس بات چیت کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ انڈیا کے سکھ شہریوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہے۔
راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلو میٹر سڑک شامل ہے۔ منصوبہ نومبر میں ہونے والے سکھوں کے مذہبی بانی و پیشوا بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔
انڈیا نے حالیہ کشیدگی کے باعث کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا ایک ٹوئٹر بیان میں کہنا تھا کہ 30 سے زائد انڈین صحافیوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور انھوں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جب کہ انڈین صحافیوں کے لیے وزیر خارجہ نے عشائیہ کا اہتمام بھی کیا تھا تاہم انڈیا نے پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہیں دیے جس پر افسوس ہے۔
21 جنوری کو پاکستان نے انڈیا کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دیتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ اس سلسلے میں پاکستانی وفد 14 مارچ کو انڈیا کا دورہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد انڈین وفد بھی پاکستان کا جوابی دورہ کر سکتا ہے۔ جس پر 6 مارچ کو انڈیا کی جانب سے پاکستانی وفد کو 14 مارچ کے دورے کی تجویز دی گئی تھی جس کو قبول کیا گیا۔











