انڈیا کا آئینی بحران بنگال حکومت کا احتجاج

ممتا بینرجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنے آپ کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر ہیش کر رہی ہیں
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ذرا تصور کریں کہ امریکہ میں ریاستی پولیس ریاست میں کسی جرم کی تحقیق کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں کو گرفتار کرنا شروع کر دے۔

اس سے بڑھ کر ذرا اس صورت حال کا تصور بھی کریں کہ کسی ریاست کا گورنر ایف بی آئی اور صدر کے خلاف ریاستی حکومت سے بدلا لینے کا الزام لگاتے ہوئے عوامی سطح پر احتجاج شروع کر دے۔

اور یہ بھی تصور کریں کہ وفاقی ادارے کسی ریاست میں گورنر یا اس کے حمائتیوں کی طرف سے اپنے دفاتر پر حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے دفاتر اور ان میں کام کرنے والوں کے تحفظ کے لیے اپنے اہلکار تعینات کریں۔

یہ سب کچھ کسی خیالی سیاسی ناول کا پلاٹ معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ سب کچھ انڈیا میں ہو رہا ہے۔

انڈیا میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کسی کیس کی تحقیقات کے سلسلہ میں کولکتہ شہر میں پولیس کمشنر کے گھر پہنچتے ہیں۔

گھر کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکاروں کو وہ بتاتے ہیں کہ وہ پونزی سکینڈل کے سلسلے میں پولیس کمشنر راجیو کمار سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ پونزی سکینڈل کئی کروڑ ڈالر کا معاملہ ہے جس میں مبینہ طور پر بزنس مین، سیاست دان، صحافی اور فلم پروڈیوسر ملوث ہیں جنھوں نے بہت سے چھوٹے سرمایہ کاروں کا پیسہ خرد برد کر لیا تھا۔

لیکن پولیس کمشنر راجیو کمار نے سی بی آئی کے اہلکاروں سے ملنے سے انکار کر دیا۔

کولکتہ کی پولیس نے سی بی آئی کے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا جو کہ کولکتہ پولیس فورس سے ہی ایف بی آئی میں بھرتی کیے گئے تھے اور انھیں تھانے میں بند کر دیا گیا۔ کئی گھنٹوں بعد سی بی آئی کے اہلکاروں کو رہائی نصیب ہوئی لیکن انھیں پولیس کمشنر کا بیان لیے بغیر واپس جانا پڑا۔

راجیو کمار اسی سکینڈل کی ابتدا میں تفتیش کرتے رہے ہیں لیکن بعد میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف انڈیا کے کہنے پر یہ معاملہ پولیس سے لے کر سی بی آئی کو دے دیا گیا۔

سی بی آئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسی بی آئی ایک زمانے میں انتہائی معتبر ادارہ تھا

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی اس کیس سے متعلق کچھ شواہد ملنے کے بارے میں پولیس کمشنر سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ایک درجن سے زیادہ مرتبہ کوشش کر چکی ہے لیکن اسے کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

سی بی آئی کو شک ہے کہ پولیس کمشنر کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پونزی سکینڈل جس میں دو چھوٹی سرمایہ کار کمپنیاں ملوث ہیں سنہ 2013 میں منظر عام پر آیا تھا۔

انڈیا میں جہاں سیاست پر مرد چھائے ہوئے ہیں وہاں ممتا بینرجی سیاست میں سرگرم چند خواتین میں شامل ہیں جو اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے مشہور ہیں اور انھیں بڑی عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

انھوں نے سنہ 2011 میں اقتدار سنبھالا تھا جس سے قبل 34 برس تک ریاست پر کمیونسٹوں کی حکومت رہی تھی۔ انھیں سنہ 2012 میں امریکی جریدے ٹائمز میگزین نے دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس کے بعد سے تیز مزاج ممتا بینرجی مغربی بنگال پر حکومت کر رہیں ہیں۔

مغربی بنگال میں ممتا بینرجی کی ریاستی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی وفاقی حکومت کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی مغربی بنگال میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اس کی حکمت عملی ترقی کے وعدوں اور فرقہ وارانہ بیانات پر مبنی ہے۔

کئی ریاستوں میں ناکامیوں کے بعد نریندر مودی اب آنے والے عام انتخابات میں سیاسی طور پر ناقابل شکست نہیں رہے ہیں۔ دوسری طرف ممتا بینرجی جیسی زیرک سیاست دان حزب اختلاف کی جماعتوں کی کامیابی کی صورت میں اپنے آپ کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے حزب اختلاف کی 23 جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد کیا جس میں نریندر مودی کو شکست دینے کا عزم کیا گیا۔

ممتا بینرجی جو غیر معینہ مدت کے لیے کولکتہ میں نریندر مودی کے خلاف عوامی احتجاج کر رہی ہیں مودی کی جماعت پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔

سنہ 2014 کے عام انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت بنگال میں صرف 17 فیصد ووٹ اور محظ دو نشستیں حاصل کر پائی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس سال گرمیوں میں ہونے والے عام انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی حکومت ممتا بینرجی کی حکومت پر آئینی بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔ اس ضمن میں سی بی آئی کے اہلکاروں کی گرفتاری کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

تاریخ داں رام چندر گوہا کہتے ہیں کے حالیہ سیاسی محاذ آرائی دو بے رحم اور اخلافی دیوالیہ پن کا شکار دو سیاست دانوں کی جنگ ہے جن کو اداروں کی حرمت کا کوئی خیال نہیں ہے۔

’یہ غیر معمولی یا گھٹیا واقع انڈین اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ اور سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

سی بی آئی جو مرکزی حکومت کا ذیلی ادارہ ہے اور اسے ماضی میں حکومتیں اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں اس کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔ گذشتہ سال اکتوبر میں حکومت کو اس کے دو انتہائی اعلیٰ عہدیداروں کو اس لیے برطرف کرنا پڑا تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگا رہے تھے۔

حالیہ واقعات اس بحران کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کرتا ہے جس کا ماضی میں بھی انڈین ریاست کو کئی مرتبہ سامنا رہ چکا ہے۔ یعنی ایک مضبوط مرکزی حکومت کیسے ایک مضبوط ریاستی حکومت سے معاملات طے کرے۔

یہ مسئلہ انڈیا کے وفاقی شکل کے سیاسی ڈھانچے میں بڑی بنیادی نوعیت کا ہے۔