کابل: ’عید میلاد النبی کے اجتماع میں خودکش دھماکہ، 50 افراد ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں مذہبی علما کے اجتماع میں خودکش دھماکے سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس دھماکے میں 83 افراد زخمی بھی یوئے ہیں۔ علما کابل کے ہوائی اڈے کے قریب واقع یورینس شادی ہال میں پیغمبر اسلام کی یوم ولادت کی تقریب کے لیے جمع تھے۔
یہ کابل میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے شدید ترین حملہ ہے۔
تاحال اس دھماکے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
ہال میں کیا ہوا؟
بتایا گیا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت ہال میں ایک ہزار کے قریب افراد موجود تھے۔
کابل پولیس کے ترجمان باصر مجاہد کا کہا ہے کہ ’اسلامی علما اور ان کے پیروکار عید میلاد النبی کے موقع پر قرآن کی آیات کی تلاوت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق خودکش بمبار داخل ہونے کے بعد اجتماع کے مرکزی حصے میں پہنچا جہاں اس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔
دینیات کے لیکچرر محمد حنیف کا کہنا تھا کہ دھماکہ کان پھاڑ دینے والا تھا اور ’ہال میں ہر کوئی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔‘
جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں خون سے لتھڑے اور پھٹے ہوئے کپڑے، ٹوٹے ہوئے نیچے اور بکھرا ہوا سامان دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی ٹی وی چینل 1ٹی وی نیوز کے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ 24 افراد شدید زخمی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ردعمل عمل کیا رہا؟
افغان صدر اشرف غنی نے اس ’دہشت گرد حملے‘ کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے بدھ کو قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھی ’دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی’ کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
دھماکے کا ذمہ دار کون؟
افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ، جسے دولت اسلامیہ خراسان کا نام بھی دیا جاتا ہے، نے اس قسم کے حالیہ بیشتر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اگست میں کابل میں ہی ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری اس نے قبول کی تھی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات کے دوران بھی ملک بھر میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے بھی اپنے حملے جاری رکھے ہیں تاہم ان کا زیادہ تر نشانہ سکیورٹی فورسز رہے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان زبیع اللہ مجید نے منگل کو ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔











