ایران نے تہران میں خفیہ جوہری مرکز کے اسرائیلی دعوے کو مسترد کر دیا

جواد ظریف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجواد ظریف نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی اپنی پالیسیاں امریکہ پر مسلط کرنے کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑے ہیں

ایران نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن کے مطابق اسے تہران میں جوہری مواد کے ایک خفیہ مرکز کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران نے منصوبہ بنا رکھا ہے کہ خفیہ سٹور میں رکھے گئے مواد کو صحیح وقت پر جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کیا جا سکے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس الزام کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ خطے میں اسرائیل واحد ملک ہے جو جوہری ہتھیاروں کا خفیہ پروگرام چلا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی غیر قانونی جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے کھول دے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ’ کس طرح مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیار رکھنے والا واحد ملک اسرائیل بےشرمی سے ایک ایسے ملک پر الزام عائد کر رہا ہے جس کے پروگرام کو جوہری نگرانی کا بین الاقوامی ادارہ’ آئی اے ای اے‘ پرامن قرار دے چکا ہے۔‘

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی اپنی پالیسیاں امریکہ پر مسلط کرنے کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تہران میں ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تہران میں خفیہ جوہری مواد کا ویئر ہاؤس ہے اور آئی اے ای اے اس کا معائنہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ’ آج میں پہلی بار یہ انکشاف کر رہا ہوں کہ ایران کا ایک اور خفیہ مرکز تہران میں ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے بڑی مقدار میں آلات اور مواد رکھا گیا ہے۔‘

ایرانی جوہری پروگرام

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ اسرائیل اس سے پہلے بھی متعدد بار ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے خدشات کا اظہار کر چکا ہے اور اس ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے پر بھی شدید تشویش تھی جس سے اب امریکہ نکل گیا ہے۔

ایران کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

بدھ کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کریں۔

سلامتی کونسل کے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اس کی وجہ ایران کا ' تباہ کن رویہ' قرار دیا۔

اس سے پہلے رواں برس مارچ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کیے تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار بنائے گا جبکہ ایران نے سعودی شہزادے کے بیان کو 'بے معنی' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں۔