برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کا امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے نیا منصوبہ

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فریڈریکا

،تصویر کا ذریعہALEXANDER SHCHERBAK/TASS/GETTY

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں شامل ممالک، برطانیہ، فرانس، جرمنی چین اور روس نے کہا ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچنے کے لیے وہ ایران کے ساتھ ادائیگیوں کا نیا طریقۂ کار طے کریں گے۔

ادائیگیوں کے نئے طریقہ کار سے تیل کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں اور تجارتی اداروں کو یہ سہولت میسر آ جائے گی کہ وہ تیل کی عالمی منڈی جو کہ امریکہ کے زیر اثر ہے اور ڈالر سے باہر نکل کر بھی ایران کے ساتھ کاروبار کر سکیں گے۔

اس نئے طریقۂ کار کے خدو خال ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے شروع میں سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا تھا۔

ایران اور یورپی ممالک کے درمیان جوہری معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں طے پایا تھا۔

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فریڈریکا نے اقوام متحدہ اور اس معاہدے کے ارکان برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد اس منصوبے کا اعلان کیا۔

حسن روحانی، ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے معاشی آپریٹرز کی آزادی کی حفاظت کے لیے زور دیتے ہیں تاکہ وہ ایران کے ساتھ جائز کاروبار کی پیروی کریں۔

فریڈریکا کا کہنا ہے کہ تکنیکی ماہرین ایران کے ساتھ ادائیگیوں کا نیا طریقۂ کار کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

تجزیہ کاروں کو شک ہے کہ اگر ایسا کوئی میکانزم ممکن ہے تو امریکہ کسی بھی نئے نظام میں شامل ہونے کے لیے پابندیوں میں ترمیم کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’یک طرفہ، تباہ کن اور تاریخ کا بدترین معاہدہ قراد دے چکے ہیں۔

امریکی صدر کو یقین ہے کہ ایران پر اگست سے نافذ ہونے والا جدید اقتصادی دباؤ اسے ایک نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کر دے گا۔