ایران: پریڈ پر حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک، ’امریکی کٹھ پتلیاں عدم استحکام پھیلانا چاہتی ہیں‘

ایران حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے جنوبی شہر اھواز میں فوجی پریڈ پر حملے کا الزام امریکہ کے حمایت یافتہ خلیجی ممالک پر لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'امریکہ کی کٹھ پتلیاں' ایران میں عدم استحکام پھیلانا چاہتی ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ اس حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

جنوبی شہر اھواز میں ایک فوجی پریڈ کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت کم از کم 24 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے اس الزام کے بعد ایران کی سعودی عرب اور اس کے خلحجی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔

خامنہ ای کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے اھواز میں فوجی پریڈ پر حملے کا الزام امریکہ کے حمایت یافہ خلیجی ممالک پر لگایا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا ’یہ کارروائی ان سازشوں کا حصہ ہے جو خطے میں امریکی کٹھ پتلیاں ہیں کرتی رہتی ہیں اور ان کا مقصد ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانا ہے۔‘

تاہم انھوں نے اپنے بیان میں ملکوں کے نام نہیں لیے۔

جنوبی شہر اھواز میں ایک فوجی پریڈ کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت کم از کم 24 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ایران حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں اور انھوں نے پارک کے پیچھے سے حملہ کیا۔

دوسری جانب اس حملے کی ذمہ داری اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور ایرانی حکومت مخالف عرب گروپ اھواز نیشنل رزسٹنس نے قبول کی ہے۔

اھواز نیشنل رزسٹنس میں کئی گروپس شامل ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی صوبے خوزستان میں عرب اکلیت کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تاہم دونوں کی گروپوں نے اس حوالے سے شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کو 'غیر ملکی حکومت' کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ریاستی میڈیا نے حملے کا ذمہ دار سنی جنگجوؤں یا عرب قوم پرستوں کو ٹھہرایا۔

فارس نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہوا اور اس میں کم از کم دو بندوق بردار ملوث تھے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی فوجیوں کو اٹھا کر مدد کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ 'اھواز کے حملے کے دہشت گردوں کو تربیت، اخراجات اور اسلحہ ایک بیرونی ملک کے فراہم کیا تھا۔ مرنے والوں میں بچے اور صحافی شامل ہیں۔ ایران دہشت گردی کے مقامی پشت پناہوں اور ان کے امریکی حاکموں کو ایسے حملوں کے لیے جواب دہ سمجھتا ہے۔ ایران اپنے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے تیزی سے اور فیصلہ کن طریقے سے جواب دے گا۔'

ایرانی فوجی

،تصویر کا ذریعہMEHR

،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد وہاں بھگدڑ مچ گئی

ہفتے کو ایران کے مختلف شہروں میں عراق کے ساتھ جنگ کی 38ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جس کے سلسلے میں متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

فائرنگ تقریباً دس منٹ تک جاری رہی، لیکن سرکاری میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اب صورتِ حال پر قابو پا لیا ہے۔

اھواز کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں پچھلے سال بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے۔