’شجاعت بخاری کشمیر کی کہانی کو ہر زاویے سے بیان کرنے میں ماہر تھے‘

شجاعت بخاری
،تصویر کا کیپشنشجاعت حسین بخاری سری نگر سے انگریزی اور اردو میں اخبار شائع کرتے تھے جبکہ کشمیر زبان میں ایک ہفتہ وار جریدے کی ادارت کرتے تھے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر

پچاس سالہ شجاعت بخاری نے تیس سال قبل صحافت کا آغاز وید بھسین کے کشمیر ٹائمز میں ایک ٹرینی رپورٹر کے طور پر کیا تھا۔

بارہمولہ کے کریری قصبہ کے ایک آسودہ حال خاندان سے تعلق رکھنے والے شجاعت بخاری نے سرکاری نوکری ترک کر کے صحافت میں قدم رکھا تھا اور چند سال کے اندر ہی وہ ایک معروف اور سلجھے ہوئے صحافی کے طور پر اُبھرے۔

سنہ 1997 میں شجاعت بخاری بھارت کے انگریزی روزنامہ ’دا ہندو‘ کے خصوصی نامہ نگار تعینات ہوئے اور 15 سال تک اسی اخبار کے لیے کام کیا۔ اس دوران وہ جرمنی کے ریڈیو ڈاش ویلے کے بھی نامہ نگار رہے۔

شجاعت بخاری نے سنہ 2008 میں کشمیر میڈیا گروپ نامی صحافتی ادارہ کی بنیاد رکھی اور اسی کے تحت انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر، اُردو روزنامہ بلند کشمیر، اُردو ہفت روزہ کشمیر پرچم اور کشمیری زبان کا ہفت وار اخبار سنگر مال جاری کیے۔

گذشتہ چند سال سے وہ رائزنگ کشمیر کے ہمہ وقتی مدیر تھے۔ وہ امریکی رضاکار ادارہ روٹری کلب کے ساتھ بھی کئی سال تک وابستہ رہے اور وادی میں فنکاروں اور اداکاروں کی بہبود کے لیے انھوں نے کشمیر آرٹ فاؤنڈیشن بھی قائم کی۔

کشمیری زبان کے احیا کے لیے بھی انھوں نے کافی کام کیا اور وہ اس زبان میں لکھے گئے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے سرگرم تنظیم ’ادبی مرکز کمراز‘ کے صدر بھی رہے ہیں۔

انھوں نے امریکہ، مشرق وسطیِ اور یورپ میں درجنوں شہروں کا دورہ کیا اور اکثر انہیں کشمیر، افغانستان اور دیگر عالمی امور سے متعلق کانفرنسوں میں مدعو کیا جاتا تھا۔

جمعرات کو ہلاکت سے چند ہی روز قبل وہ سپین میں ورلڈ ایڈیٹرز کانفرنس میں شرکت کے بعد لوٹے تھے۔

شجاعت کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملنسار اور مثبت سوچ کے مالک تھے۔ اُن کے اخبار ’بلند کشمیر‘ کے مدیر راشد مقبول کہتے ہیں: ’شجاعت صاحب نے اپنی صحافت میں اعتدال برقرار رکھا، وہ کشمیر کی کہانی کو ہر زاویہ سے کہنے میں ماہر تھے۔‘

شجاعت بخاری

،تصویر کا ذریعہ@BUKHARISHUJAAT

شجاعت کا حلقہ اثر کشمیر ہی نہیں بلکہ ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم تھے اور اکثر صورتحال سے متعلق شدید مباحثوں میں شریک ہوتے تھے۔

انہیں سنہ 2006 میں نامعلوم افراد نے اغوا کر کے گولی مارنے کی کوشش کی تاہم شجاعت ان کی گرفت سے بھاگ نکلے اور بعد میں انھوں نے بتایا کہ جب انہیں گولی مارنے کی کوشش کی گئی تو بندوق بردار کی پستول لاک ہو گئی۔

بعد میں حکومت نے انہیں سکیورٹی فراہم کی اور گذشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ کم از کم چار ذاتی محافظ تعینات رہتے تھے۔

جمعرات کو جب وہ دفتر سے گھر کی طرف روانہ ہونے کے لیے گاڑی میں بیٹھے تو ان کے محافظ ممتاز احمد اور عبدالحمید ان کے ساتھ تھے جو دونوں حملے میں ان کے ساتھ ہی مارے گئے۔

شجاعت نے دس سال قبل سنگاپور یونیورسٹی سے ایک فیلوشپ پروگرام کے تحت علم صحافت میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ ان کی تحریریں بی بی سی اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں میں شائع ہوتی رہی ہیں۔

وہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے بھی سرگرم تھے۔ شجاعت کی اہلیہ محکمہ صحت میں سینیئر ڈاکٹر ہیں اور ان کے پسماندگان میں ان کی بیوی اور والدین کے علاوہ بیٹا اور بیٹی ہیں۔