شجاعت بخاری آبائی گاؤں میں سپردِ خاک، حملہ آوروں کے خاکے جاری

،تصویر کا ذریعہ@BUKHARISHUJAAT
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے صحافی شجاعت بخاری کو ضلع بارہمولا میں ان کے آبائی گاؤں کریری میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔
شجاعت بخاری کو جمعرات کی شام سری نگر میں ان کے دفتر کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے شجاعت بخاری پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب وہ اپنے اخبار کے دفتر ڈیلی رائزنگ کشمیر سے اپنے دو محافظوں کے ہمراہ نکلے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
سری نگر کی پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ’مسلح افراد کے حملے میں شجاعت اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوئے جبکہ دوسرا محافظ زخمی ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔‘
بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق جمعے کی صبح شدید بارش کے باوجود ہزاروں افراد نے شجاعت بخاری کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
ان کے مطابق جنازے میں حکام اور علیحدگی پسند رہنماؤں کے علاوہ عوام کی بہت بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ جمعے کی نماز کے بعد سرینگر کی جامع مسجد میں بھی ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پولیس نے شجاعت بخاری پر حملہ کرنے والے دو افراد کے خاکے جاری کیے ہیں جو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔
تاحال کسی تنظیم یا گروپ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم پولیس نے اس کا الزام کشمیری عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir
تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لشکرِ طیبہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی عسکریت پسند گروپ اس کارروائی میں ملوث نہیں۔
کشمیر میں سرگرم 12 عسکری تنظیموں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ صلاح الدین نے بھی شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شجاعت بخاری کے قتل کی کشمیر میں حکومت اور حکومت مخالف تمام حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔
انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے شجات بخاری کے قتل کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا یہ کشمیر میں دانشمندانہ بات کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں اس خبر پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
شجاعت بخاری کون تھے؟
شجاعت بخاری نے 2008 میں اخبار ڈیلی رائزنگ کشمیر شروع کیا تھا۔
شجاعت بخاری اپنا اخبار شروع کرنے سے قبل انڈیا کی اخبار دا ہندو کے نامہ نگار تھے۔ معروف صحافی ہونے کے علاوہ وہ مقامی کشمیری زبان کی تجدید کے لیے مہم کر رہے تھے۔
شجاعت بخاری نے دنیا کے کئی ممالک میں امن اور سکیورٹی کی کانفرنسوں میں حصہ لیا۔
50 سالہ شجاعت نے سوگواران میں والدین، اہلیہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 90 کی دہائی سے شروع ہونے والی شورش میں کئی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں اور پولیس ان کی ہلاکت کی ذمہ داری جنگجوؤں پر ڈالتے ہیں۔










