شوپیان کی خواتین کے ریپ اور قتل کی تحقیقات نو سال بعد بھی نامکمل

احتجاج

،تصویر کا ذریعہMuzamil Bhat

،تصویر کا کیپشنعلیحدگی پسندوں کی کال پر ضلع شوپیان میں ہڑتال رہی جبکہ سری نگر میں آسیہ اور نیلوفر کے اہل خانہ نے دھرنا دیا۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا جنوبی ضلع شوپیان آج کل تو مسلح تشدد کی وجہ سے سرخیوں میں ہے لیکن نو سال قبل یہاں کے عوام نے دو ماہ تک جس دوہرے قتل کی تحقیقات کے لیے پرامن دھرنا دیا تھا وہ آج بھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

وہ لوگ 29 مئی 2009 کو شوپیان کی کم سن آسیہ اور اس کی حاملہ بھاوج نیلوفر کے پراسرار ریپ اور قتل کے بارے میں انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے دھرنے پر بیٹھے تھے اور دو ماہ تک علاقے میں کاروبارِزندگی معطل رہا تھا۔

کشمیر کے بارے میں مزید خبریں!

پولیس نے اس واردات کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں کی موت ندی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان کی مسخ شدت لاشیں ندی سے ہی برآمد ہوئی تھیں لیکن عدالت نے پولیس کی دلیل مسترد کرکے دوبارہ تحقیقات کا حکم سنایا جو نو سال بعد بھی جاری ہیں۔

اس واقعے کے خلاف وادی بھر میں احتجاج ہوا تھا۔

نیلوفر کے خاوند شکیل کہتے ہیں کہ اُن پرامن دھرنوں میں اُن کے دوست زبیر بھی ہوتے تھے لیکن کئی سال تک انصاف نہ ملنے کی وجہ سے زبیر بالاخر روپوش ہوکر مسلح گروپ میں شامل ہو گئے اور ایک تصادم میں مارے گئے۔

شکیل کہتے ہیں: ’زبیر نے جب دیکھا کہ انصاف نہیں ملے گا تو اُس نے بندوق تھام لی۔ ہم اب عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکے ہیں۔ میرا بیٹا ہے، یہ آج بھی سوال کرتا ہے کہ ماں اور پھوپھی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ میں ڈرتا ہوں۔ کیا جواب دوں اس کو۔ آج کل بچے گھر چھوڑ کر جنگلوں میں مسلح ہو جاتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے یہ جوان ہو کر ہتھیار نہ اُٹھا لے۔‘

شوپیان کی اس واردات کے حوالے سے منگل کو سرینگر اور شوپیاں میں مظاہرے ہوئے۔ علیحدگی پسندوں کی کال پر ضلع شوپیان میں ہڑتال رہی جبکہ سری نگر میں آسیہ اور نیلوفر کے اہل خانہ نے دھرنا دیا۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہMuzamil Bhat

،تصویر کا کیپشننیلوفر کے خاوند شکیل کہتے ہیں: 'سمجھ نہیں آتا کہ انسانی حقوق کے اداروں نے اس معاملہ میں خاموشی کیوں اختیار کرلی۔'

صحافی شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’انصاف کی یہی عدم فراہمی لوگوں میں انتقامی جذبات پیدا کرتی ہے، پھر نوجوان بندوق اُٹھاتے ہیں اور حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔‘

خواتین کی علیحدگی پسند جماعت تحریک خواتین کی سربراہ انجم زمردہ حبیب کا کہنا تھا کہ ’جب یہ واردات ہوئی تو موجودہ وزیراعلیٰ محبوبہ حزب مخالف کی رہنما تھیں، انھوں نے عزم کیا تھا کہ آسیہ اور نیلوفر کو انصاف دلا کر رہیں گی۔ وہ خاتون ہیں اور آج وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ ہم انھیں ان کا وعدہ یاد دلا رہے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں جموں کے کٹھوعہ ضلع میں ایک کمسن بچی کے ساتھ ریپ اور اس کے بعد قتل کا معاملہ عالمی سطح پر مشتہر ہوا لیکن شوپیان کے لوگوں کو گلہ ہے کہ عالمی برادری اس دلخراش واقعہ پر خاموش ہے۔

نیلوفر کے خاوند شکیل کہتے ہیں: ’سمجھ نہیں آتا کہ انسانی حقوق کے اداروں نے اس معاملہ میں خاموشی کیوں اختیار کر لی۔‘