کٹھوعہ ریپ: کشمیری لڑکی کا مقدمہ لڑنے والی وکیل دپیکا سنگھ کہتی ہیں ’مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک آٹھ سالہ بچی کے وحشیانہ ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد علاقے میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مذہبی بنیادوں پر منقسم ہوئی سوسائٹی میں دراڑیں دکھائی دینے لگی ہیں۔
بچی کے لواحقین کو قانونی چارہ جوئی سے روکنے کے لیے کچھ عناصر بےحد کوشاں ہیں۔ ان کی وکیل دپیکا سنگھ کو شدید ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے
حال ہی انڈین میڈیا پر بیان دیتے ہوئے دپیکا سنگھ نے بتایا کہا کہ انھیں جان کا خطرہ لاحق ہے اور اس حوالے سے انھوں نے کشمیر کی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دی ہے جس کے بعد عدالت نے پولیس کو حکم جاری کیا دپیکا سنگھ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
دپیکا سنگھ کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتی کہ میں کب تب زندہ ہوں۔ میرا ریپ ہو سکتا ہے، میری عزت لوٹی جا سکتی ہے، مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ کل مجھے دھمکی دی گئی کہ ہم تمھیں معاف نہیں کریں گے۔‘
دپیکا سنگھ نے انڈین میڈیا کو یہ بھی بتایا ہے کہ جموں بار ایسوسی ایشن کے صدر نے انھیں خود عدالت کے باہر دھمکی دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دپیکا سنگھ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ زی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کسی بھٹی صاحب نے الزام لگایا کہ دپیکا سنگھ نے گذشتہ چند روز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں گزرے جو کہ بالکل غلط ہے اور وہ کبھی اس یونیورسٹی میں گئی ہی نہیں۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھٹی صاحب نے پروگرام میں جو اشارہ دیا کہ اس کیس کے نام پر بہت رقم جمع کی گئی ہے یہ بھی درست نہیں اور دپیکا سنگھ یہ کیس مکمل طور پر مفت میں لڑ رہی ہیں۔
دپیکا کے مخالفین کا مطالبہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش جموں پولیس کی کرائم برانچ سے لے کر سی بی آئی کے ذمہ کی جائے جبکہ کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سی بی آئی پر کچھ با اثر لوگ اثرانداز ہو کر مجرموں کو بچا لیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
دپیکا سنگھ کون ہیں؟
دپیکا سنگھ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وائس فار رائٹس کی سربراہ بھی ہیں۔ بی بی سی کی عالیہ نازکی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فروری کے اوائل میں انھوں نے عدالت میں استدعا کی تھی کہ اس کیس کی تفتیش کی نگرانی عدالت خود کرے۔
آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل کیس میں پولیس کی کرائم برانچ نے تفتیش کی ہے تاہم دپیکا سنگھ کے مخالفین کا اصرار ہے کہ اس کیس کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے کی جائے۔
ماضی میں دپیکا سنگھ نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کئی ایسے کیسز لڑے ہیں جن کا تعلق مفادِ عامہ سے تھا۔ ان کا کم عمر بچوں کے مجرمانہ کیسز میں وکالت کا کافی تجربہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اہم کیسز میں پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کاری کے دوران استعمال ہونے والے کاربن کاربائڈ پر پابندی لگانے کا کیس بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ کاربن کاربائڈ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بارودی سرنگوں کے متاثرہ افراد کے لیے متعدد کیسز لڑے ہیں۔ انھوں نے ایک ذہنی طور پر غیر متوازن پاکستانی خاتون کا کیس بھی لڑا جو کہ 26 سال سے ایک انڈین جیل میں بند تھی اور اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔
ماضی میں وہ کشمیر ٹائمز کے ساتھ بطور صحافی بھی کام کر چکی ہیں۔








