جنوبی بحیرہ چین: متنازع جزیرے پر چینی بمبار طیاروں کی لینڈنگ

،تصویر کا ذریعہGOOGLE/DIGITAL GLOBE
چینی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔
دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K ان طیاروں میں شامل ہے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔
یہ نئی پیش رفت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
بیجنگ کے دفاعی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ان بمبار طیاروں کو کہاں اتارا گیا ہے تاہم یہ کہا ہے کہ ان کی ٹریننگ میں مصنوعی سمندری اہداف کو نشانہ بنانا شامل تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
H-6K کے ایک پائلٹ جی ڈاکنگ کا بیان میں حکام کی جانب سے جاری بیان میں شامل کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹریننگ اصل جنگ میں ہماری ہمت کو تیز اور ہماری صلاحیتوں کو بڑھانے کا باعث ہے۔
یہیں موجود ووڈی جزیرے پر ویتنام اور تائیوان دعویٰ کرتے ہیں۔
ایشیا میری ٹائمز ٹرانسپرینسی انیشییٹوٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سے قبل اس جزیرے پر چین نے اپنے جنگی جیٹ طیارے تعینات کیے تھے تاہم یہ پہلی بار ہے کہ یہاں بمبار طیاروں کو بھجوایا گیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ H-6K اس جزیرے سے پورے جنوبی ایشیا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ادھر پینٹاگون کے ترجمان کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ ہند- بحرالکاہل کو آزاد کرنے اور کھلوانے کے ارادے پر قائم رہے گا۔
لیفٹننٹ کرنل کرسٹوفر لوگان کا کہنا تھا کہ متنازع علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور وہ غیرمستحکم ہوگا۔








