انڈیا میں نقل و حمل کے لیے متبادل راستے کا منصوبہ

انڈیا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

انڈیا میں وفاقی حکومت آبی راستوں کے ایک بڑے منصوبے کو عملی شکل دے رہی ہے جس پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔

اس منصوبے کے تحت 106 آبی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں قدیم شہر بنارس کو مغربی بنگال کے ہلدیہ بندرگاہ سے جوڑا جارہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں آبی راستوں کا جال بچھانا ہے تاکہ سڑکوں اور ریل سے مال کی نقل و حمل کا ایک متبادل راستہ تیار کیا جا سکے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے مطابق آبی راستوں کے استعمال سے ٹرانسپورٹ پر لاگت بھی کم ہو جائے گی اور آب و ہوا بھی صاف ہو گی۔ اس منصوبے میں عالمی بینک کی تکنیکی اور مالی اعانت بھی شامل ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ انڈیا میں صرف نصف فیصد مال کی نقل و حمل کے لیے ہی آبی راستے استعمال کیے جاتے ہیں جوکہ یورپ، امریکہ اور چین کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا

بنارس سے مغربی بنگال کا آبی راستہ تقریباً 1,400 کلومیٹر طویل ہے جسے نیشنل واٹر وے نمبر ایک کا نام دیا گیا ہے۔ چند روز قبل اس منصوبے کے لیے پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منظور کی گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاس تقریباً 14,000 کلومیٹر کے آبی راستے اور 7,000 کلو میٹر کا ساحل ہے لیکن ان سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا کے کئی بڑے دریاؤں میں برسات کے بعد پانی بہت کم ہو جاتا ہے۔یہی دشوراری نیشنل واٹر وے ون کے راستے میں بھی حائل ہے جس سے نمٹنے کے لیے ایسے چینل بنائے جائیں گے جن کی گہرائی تقریباً تین میٹر اور چوڑائی 45 میٹر۔

انڈیا

حکومت اور عالمی بنک کا کہنا ہے کہ آبی راستوں پر بڑے بڑے جہاز ضرور چلیں گے لیکن ساتھ ہی ایسی تدابیر بھی کی جائیں گی کہ آبی حیات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

لیکن ماحولیات کے لیے کام کرنے والے فکر مند ہیں۔ ان میں ہمانشو ٹھکر بھی شامل ہیں جو کہتے ہی کہ آبی راستے تو ہونے چاہیں لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دریاؤں میں پانی کی روانی کو یقینی بنایا جائے اور انھیں صاف کیا جائے۔

ان کے مطابق گنگا اور جمنا جیسے دریاؤں میں برسات کے بعد پانی بہت کم ہو جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ برسات کے پانی کو ضائع نہ ہونے دیا جائے تاکہ دریا بہتے رہیں۔

انڈیا

انڈیا کی سڑکوں پر بے تحاشہ ٹریفک ہے اور بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ آبی راستے ایک اچھا متبادل ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ماہرین کو یہ فکر ہے کہ پہلے سے آلودہ دریا اور ان میں رہنے والی آبی حیات کہیں ان ترقیاتی منصوبوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔