بھارت کی ایرانی بندرگاہ کی تعمیر میں دلچسپی

بھارت کے جہاز رانی کے وزیر نتین گیدکاری نے ایران کےمختصر دورے کے دوران ایران کےساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنبھارت کے جہاز رانی کے وزیر نتین گیدکاری نے ایران کےمختصر دورے کے دوران ایران کےساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے

بھارت نے مشرق وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایران کے جنوب میں واقع چاہ بہار کی بندرگارہ کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے دو اہم ذرائع نے اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل بھی سنہ 2003 میں بھارت اور ایران نے پاکستان کی سرحد سے متصل خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو تعمیر کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اُس پر عائد ہونے والی پابندیوں کے سبب منصوبے پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔

چین کے صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہِ پاکستان کے موقع پر 46 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کے اعلان کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ فوری معاہدے کرنا چاہتے ہیں۔

بھارت میں بندرگارہ اور جہاز رانی کے وزیر نتین گیدکاری نے ایران کا مختصر دورہ کیا۔ جہاں انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے۔

وزارت جہاز رانی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’جہاز رانی کے وزیر نتین گیدکاری نے ایران کے ایک روزہ دورے کے دوران چاہ بہار بندرگارہ کی تعمیر کے لیے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ معاہدہ پر دستخط بدھ کو ہوئے ہیں۔

ایران اور عالمی برادری کے درمیان جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے 30 جون تک طے پانے کا امکان ہے۔ جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندی ختم ہوں گی۔

مستقبل کے حالات کے پیشِ نظر بھارت نے ایران کے ساتھ تجارت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے اپنا ایک وفد بھی تہران بھیجا تھا۔

دوسری جانب امریکہ نے کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر بھارت کو خبردار کیا تھا لیکن بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد کو نظراندار نہیں کر سکتے ہیں۔

بھارت کے ہمیشہ ایران سے اچھے تعلقات رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کے ہمیشہ ایران سے اچھے تعلقات رہے ہیں

اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا توانائی کے ماہرین پر مشتمل ایک وفد بھی ایران گیا تھا۔

وزارت جہاز رانی کے اہلکار نے کہنا ہے کہ ’ہم اس موقع کوضائع نہیں کرنا چاہتے اور ہم جتنا جلدی ہو سکے اتنی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔‘

یاد رہے کہ بھارت کی کابینہ نے گذشتہ سال چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کی منظوری دی تھی۔

بھارت کی وزرات تجارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے بھارت کے ساتھ آزادنہ تجارت کے معاہدے کی تجویز دی ہے۔

ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور بھارت کے درمیان روپے کے ذریعے تجارت کا معاہدے سنہ 2012 میں طے پایا تھا۔ جس کے بعد ایران کے لیے بھارتی برآمدات کا حجم دو سال میں بڑھ کر دوگنا ہو گیا ہے۔

بھارت ایران کو سالانہ چار ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

بھارت میں برآمد کنندگان کے ادارے سے وابستہ ایک تاجر خالد خان نے بتایا کہ ’بھارت کے برآمد کنندگان ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو فری ٹریڈ زون کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ کامن ویلتھ میں شامل آزاد ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک تک رسائی حاصل ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بھارتی برآمدکنندگان کے لیے وزیراعظم مودی کا تحفہ ہو سکتا ہے۔‘

بھارت یہ بندرگاہ اس لیے بنانا چاہتا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے درمیان سفری اخراجات اور وقت میں تین گنا تک کمی ہو سکتی ہے۔

چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کا مقصد پاکستان کے چین کے ساتھ اقتصادی منصوبوں کے جواب میں افغانستان تک زمینی راستہ حاصل کرنا ہے۔

حال ہی میں بھارت نےافغانستان کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی کے معاملات تعاون کو بڑھایا ہے۔

بھارت پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ کو مغربی افغانستان کے ساتھ جوڑنے کے لیے 220 کلو میٹر لمبی سڑک بنانے کے لیے 100 ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افغان صدر کو بندرگاہ بنانے کے معاہدے کا یقین دلایا ہے۔

دبئی کی مقامی کمپنی منار اینرجی کے ہیڈ آف کنسلٹنگ رابن ملز کا کہنا ہے کہ ’چاہ بہار پاکستان میں چین کی مدد سے بننے والی بندرگاہ گوادر کے ساحل سے قریب ہے ، لہذا بھارت کے لیے اس میں سٹریٹجک عنصر بھی ہے۔‘

ایران بہت تیزی کے ساتھ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مقام بن سکتا ہے اگر مغرب کی جانب سے اس عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں اور مودی بندرگاہ کے منصوبے کو تیزی کے ساتھ مکمل کرنا چاہتے ہیں اس سے پہلے کے تہران اس بارے میں اپنا ارادہ تبدیل کر لے۔

گذشتہ ہفتے ایرانی میڈیا میں یہ خبر تھی کہ ایران نے بھارت کی جانب سے فرزاد بی گیس کے ذخائر پر اربوں ڈالرز کے تعمیری حقوق حاصل کرنے کی درخواست پر انکار کر دیا ہے۔

ملز کا مزید کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں بھارت کو مزید کوشش کرنی چاہیے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے پہلے کہ ایران اس منصوبے پر اپنا ارادہ تبدیل کر لے۔‘