گیس پائپ لائن پر ایران کا الٹی میٹم

ہندوستان میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ اگر وقت پر بھارت نے گیس پائپ لائن پر بات چیت نہیں کی تو یہ پھر وہ اس مجوزہ پائپ لائن کی پیشکش چین کو کر سکتا ہے۔
دلی میں ایرانی سفیر سید مہدی نبی زادہ سے صحافیوں نے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا اس گیس پائپ لائن میں چین نے دلچسپی ظاہر کی ہے تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
’جی ہاں یہ درست ہے اور ہمیں امید ہے کہ سہ فریقی گیس پائپ لائن کا معاہدہ جلدی ہی طے پا جائیگا تاکہ ہمیں اس بارے میں کسی دوسرے سے بات نہ کرنا پڑے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہم نے پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور اگر بھارت چاہے تو وہ اب بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے لیکن میں یہ پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ اس بار یہ پیشکش غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہے۔‘
پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے پر گزشتہ مئی میں دستخط کر دیے تھے۔ ماہرین کے مطابق ایران کو اب ایک اور پارٹنر کی تلاش ہے اور اگر بھارت آکے نہیں بڑھتا تو چین اس میں شامل ہونے کو تیار ہے۔
پاکستان کے ذریعے ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن میں بھارت کو بھی دلچسپی ہے کیونکہ توانائی کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ اس کے مفاد میں ہے۔ اس مجوزہ گیس پائپ لائن پر بھارت اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے بات چیت ہورہی ہے۔ لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔ بھارت کو اگر اس پائپ لائن کی سکیورٹی پر خدشات ہیں تو دوسری طرف گیس کی قیمت طے کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت اور امریکہ کے درمیان ابھرتے نئے رشتے ہیں۔
ایران یہ واضح لفظوں میں کہہ چکا ہے کہ بھارت کے ساتھ معاہدے میں تاخیر کی وجہ امریکہ کا دباؤ ہے۔



