’انڈیا کی چابہار بندرگاہ پر 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہ چابہار کی تعمیر کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر پیر کو دستخط کیے جائیں گے جس سے اسے ایران سمیت افغانستان اور وسطیٰ ایشیا تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔
چابہار کی تعمیر کے حوالے سے برسوں سے بات کی جارہی ہے تاہم ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد انڈیا اس منصوبے کے لیے خاصی کوششیں کر رہا ہے، کیونکہ چین بھی اس بندرگاہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انڈین وزیراعظم نریندر مودی اتوار سے ایران کے دورے پر جارہے ہیں اور اس دوران کو خلیجِ اومان کے ساحل پر واقع چابہار پر دو ٹرمینل اور کارگو برتھس کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔
جمعے کو انڈین وزارت خارجہ کے اہلکار گوپال بگلے نے بتایا کہ انڈیا ابتدائی طور پر اس بندرگاہ پر 20 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کرے گا، جس کے لیے انڈیا کو ایگزم بینک 15 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے اس دورے کا مقصد روابط اور انفراسٹرکچر ہے۔
گوپال بگلے کا کہنا تھا کہ انڈیا، افغانستان اور ایران نریندر مودی کے دورے کے دوران ایک اور تجارتی اور ٹرانسپورٹ راہداری معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، جس میں چابہار مرکز کے طور پر کام کرے گا اور اسے سڑک اور ریل کے ذریعے افغانستان کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ افغانستان کو کراچی کے بجائے یہ ایرانی بندرگاہ متبال کے طور پر میسر آسکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے بتایا کہ ’یہ سہ ملکی معاہدہ علاقائی رابطہ کاری میں گیم چینچر ہوگا خاص طور پر افغانستان کے لیے جسے سمندر کے راستے سے انڈیا تک قابل بھروسہ متبادل راستہ حاصل ہوگا۔‘
خیال رہے کہ چابہار پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں پاک چین راہداری منصوبے کے تحت چین 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ انیلیسز میں انڈیا ایران تعلقات کی ماہر مینا رائے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی ایران کے حوالے سے موجودہ پالیسی میں بڑی خامی دستخط شدہ معاہدوں پر عمل درآمد میں کمی رہا ہے۔‘







