ایران سے جوہری معاہدے پر امریکی پالیسی،’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئی پابندیاں عائد کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خزانہ سٹیو منچن کے مطابق انھیں توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئی پابندیاں عائد کریں گے۔
توقع ہے کہ صدر ٹرمپ جمعے کو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا سابق صدر براک اوباما کی طرف سے ایران پر لگائی گئی امریکی اقتصادی پابندیوں میں نرمی جاری رکھیں یا نہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جائے گا، ماضی میں سامنے آنے والی رپورٹس میں ان پابندیوں کے تحت ایران کی انفرادی شخصیات اور کاروبار کو ہدف بنایا جائے گا۔
’ہماری ان پر نظر رہے گی، اور میرے خیال میں آپ توقع رکھیں کہ مزید پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔‘
مزید پڑھیئے

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے پہلے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے موجودہ معاہدے سے بہتر متبادل لا کر دکھائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برسلز میں ایران اور یورپی اتحاد کے اپنے ہم عصروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد انھوں نے کہا کہ 2015 میں ہونے والا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور ایران اس پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ ایران سے جوہری معاہدے میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں یا اس سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے اکتوبر میں انھوں نے کانگریس کے لیے اس بات کی از سرِ نو تصدیق کرنے سے انکار دیا تھا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ تہران معاہدے کی ’روح کے مطابق نہیں چل رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اقتصادی پابندیوں نے ایران کے مرکزی بینک کو بین الاقوامی اقتصادی نظام سے الگ کر دیا تھا اور دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے ایران سے تیل خریدنے پر جرمانے لگائے گئے تھے جس کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہ ہو رہی تھی۔
جمعرات کو ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریفی سے ملنے کے بعد یورپی اتحاد، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کو دہرایا، جس کے طے پانے میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔
یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگھرینی کہتی ہیں کہ ’معاہدے پر عمل ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کنٹرول میں ہے اور اس کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جس معاہدے پر عمل ہو رہا ہے، جو دنیا کو محفوظ بنا رہا ہے اور جو خطے میں ممکنہ جوہری اسلحے کی دوڑ کو روک رہا ہے اس کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری کا اتحاد ضروری ہے۔‘









