انڈیا: گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کی فتح

بی جے پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی ریاست گجرات کے اسمبلی انتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم کانگریس پارٹی بھی ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔

انڈین الیکشن کمیشن کی سائٹ کے مطابق گجرات اسمبلی کی 182 نشستوں میں سے بی جے پی نے 99 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔

کانگریس پارٹی کو 77 نشستیں ملی ہیں جبکہ دیگر جماعتیں چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

ہماچل پردیش کی ریاستی اسمبلی کی کل 68 نشستوں میں سے بی جے پی نے 44 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ کانگریس نے 21، کمیونست پارٹی نے ایک اور آزاد امیدواروں نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

نریندر مودی اور امت شاہ

،تصویر کا ذریعہReuters

گجرات کا اسمبلی انتخاب بی جے پی کے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ اگر یہاں اسے شکست ہو جاتی تو سنہ 2019 کے عام انتخابات میں اس کے لیے مشکل صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔

انتخابات جیتنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور ایک دن میں کئی کئی ریلیاں کیں۔

گجرات میں گذشتہ 22 سال سے بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ وزیر اعظم نریندر اور پارٹی کے صدر امت شاہ کا تعلق اسی ریاست سے ہے اور انھوں نے گجرات کے ترقی کے ماڈل کے نام پر مرکز میں بھی اقتدار حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

تاہم حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ ریاست میں ذات پات کی تقسیم، پٹیل برادری میں ریزرویشن نہ ملنے کے سبب ناراضگی اور دلت برادری کے چند نوجوان رہنما کی آمد بی جے پی کے لیے درد سر کہی جا رہی تھی۔

راہل گاندھی اور نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

بعض نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ انتخابات سے قبل ماحول کو اپنی طرف لانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ انھوں نے گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان گجرات میں جاری اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں کانگریس پارٹی اس کے ساتھ ہے۔

انتخابات سے قبل وہاں کے ماحول کو پولرائز کرنے کے لیے جعلی خبریں بھی گشت کرتی رہی جبکہ سوشل میڈیا پر طرح طرح کی چیزیں دیکھنے میں آئیں۔

گجرات سنہ 2002 کے فسادات کے بعد ہندو مسلم کشیدگی کے لیے مسلسل خبروں میں رہا ہے اور وہاں ایک طرح سے مذہبی خطوط پر تقسیم واضح طور پر نظر آئی ہے جس کا خاطر خواہ فائدہ حمکراں جماعت کو ہوتا رہا ہے۔