گجرات: الیکشن میں نفرت انگیز ’فیک نیوز‘ کا اہم رول

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، احمد آباد
کچھ دنوں پہلے گجرات کے کئی شہروں میں سوشل میڈیا پر ایک خفیہ ویڈیو سامنے آئی جس میں آذان کی آواز کے پس منظر میں ایک ہندو لڑکی کو شام کے وقت ڈرے اور سہمے ہوئے انداز میں اپنے گھر کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا۔
یہ ویڈیو کس نے جاری کی اور یہ کہاں سے آئی یہ پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے لیکن اس ویڈیو کے ذریعے بلاواسطہ طور پر یہ پیغام دیا گیا تھا کہ اگر گجرات میں کانگریس اقتدار میں آ گئی تو ہندو آبادی مسلمانوں سے محفوظ نہیں رہے گی۔
ماضی میں بھی گجرات کے انتخابات میں اس طرح کی باتیں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔ گجرات میں آئندہ مہینے دو مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور یہاں وٹس ایپ، فیس بک اور میسنجر وغیرہ پر ووٹروں کی سوچ کو متاثر کرنے والے پیغامات بڑے پیمانے پر چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
موبائل اب ملک کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے اور اس کے ذریعے بیشتر لوگوں کی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی ہو گئی ہے۔ لوگوں کے سامنے ایک دنیا کھل گئی ہے۔
سوشل میڈیا رائے عامہ ہموار کرنے اور لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہونے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور انتخابات میں اس کا رول اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں آئی ٹی میں کتنے وسائل لگاتی ہیں اس سے سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں گجرات میں کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے بڑے آئی ٹی سیل بنا رکھے ہیں جو دن رات کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے تو ریاست میں کئی علاقائی سیل بھی بنا رکھے ہیں جو ووٹروں اور اپنے حامیوں تک براہ راست پیغامات پہنچاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں 'فیک نیوز' یعنی جھوٹی خبروں کا بھی ایک سلسلہ چل رہا ہے۔ گذشتہ دنوں فیس بک پر گجرات کے انتخات کا ایک جائزہ شائع ہوا۔ اس جائزے میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ریاست کے انتخابات میں کانگریس جیت رہی ہے جبکہ حقیقی سروے میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فیک نیوز پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’آلٹ نیوز‘ کے ایڈیٹر پرتیک سنہا کا کہنا ہے کہ فیک نیوز کا لوگوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ وہ جھارکھنڈ کے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہاں وٹس ایپ کے ذریعے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ بچوں کو اٹھا لے جانے والا کوئی گروہ سرگرم ہے۔ اس افواہ کے نتیجے میں سات بے قصور افراد ہجوم کے ہاتھوں تشدد میں مارے گئے اور 20 لوگ گرفتار ہوئے۔ یہ 27 لوگ مجرم نہیں عام لوگ تھے جو افواہوں اور تشدد کا شکار ہوئے۔
سوشل میڈیا نے لوگوں کے لیے معلومات کی ایک نئی دنیا کھول دی ہے لیکن انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ جس انفارمیشن تک رسائی حاصل کر رہے ہیں وہ صحیح ہے یا نہیں۔ یا اس کے صحیح ہونے کے بارے میں کیسے پتہ کریں۔
فیک نیوز کا پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے۔ سب سے زیادہ ویڈیوز اور پیغامات اب وٹس ایپ کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔ وٹس ایپس سے بھیجی گئی ویڈیوز اور پیغامات کے بارے میں یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ یہ پیغامات پہلی بار کہاں سے آئے؟
سوشل میڈیا پر نفرت کے پیغامات فیک نیوز اور جعلی تصویروں کا سوال ایک سنگین مسئلہ ہے اور ابھی تک نہ تو مین سٹریم میڈیا نے اس پر توجہ دی ہے اور نہ ہی حکومت نے۔ کچھ قانون ضرور بنائے گئے ہیں لیکن ان کے تحت بیشتر وہ لوگ گرفت میں آتے ہیں جو جھوٹے یا متنازع پیغامات کے دھوکے میں آ کر انہیں فاروڈ کرتے ہیں۔
گجرات کے انتخابات جیسے جیسے قریب آئیں گے سوشل میڈیا پر بھی سرگرمی بڑھے گی۔ فیک نیوز اور نفرت انگیز پیغامات کا سلسلہ بھی بڑھے گا۔ جب تک خبروں اور پیغامات کی صداقت جانچنے کا کوئی طریقہ سامنے نہیں آتا تب تک سوشل میڈیا ایک چیلنج بنا رہے گا۔








