حاجن، 'کشمیر میں شدت پسندوں کا نیا گڑھ'

انڈین سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہABID BHAT

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران تشدد کی لہر کبھی تیز اور کبھی مدھم نظر آئی ہے لیکن جولائی 2016 میں ایک مقبول جنگجو برہان وانی کی موت کے بعد وادی میں تشدد کی تازہ لہر نظر آئی ہے۔ گوہر گیلانی کی رپورٹ پیش ہے۔

وادی کا ایک چھوٹا سا قصبہ نما مسلم اکثریتی شہر حاجن سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نئے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔

حاجن پہنچنے کے لیے آپ ایک خوبصورت سڑک سے گزریں گے جہاں راستے کے دونوں جانب تاحد نظر اونچے اونچے پوپلر کے درخت اور کشمیر کے مخصوص چنار کے درخت نظر آئيں گے۔

لیکن شمالی بانڈی پورہ کے اس چھوٹے سے شہر میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں۔ اس ضلعے کے لیے پرتشدد واقعات معمول کی بات ہیں۔

سرینگر سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر آباد حاجن 1990 کی دہائی میں انڈیا مخالف شورش کے دوران ایک متنازع ہند نواز اخوان نامی جنگجو کے لیے بدنام تھا۔

لیکن آج یہ پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانے اور نقل و حمل کے راستے کے لیے خبروں میں ہے۔

حاجن کے مقامی باشندے انڈین سکیورٹی فورسز پر 'بغیر کسی غلطی کے پریشان کرنے کے لیے کریک ڈاؤن' کا الزام لگاتے ہیں۔

جنازہ

،تصویر کا ذریعہAbid bhat

،تصویر کا کیپشنعابد حمید میر کے جنازے میں لوگوں کی بھیڑ امڈ آئی تھی

مقامی باشندوں میں انڈیا مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔

ایک مقامی کیمسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ 'فوج اور پولیس والے سرچ آپریشن کے دوران ہمیں مارتے پیٹتے ہیں، ہماری موٹر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو ضبط کر لیتے ہیں اور گھر کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ایک دہائی کے وقفے کے بعد ایک مختلف قسم کے خوف نے حاجن کو گھیر رکھا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں

حکام کا کہنا ہے کہ حاجن اپنے پہاڑی محل وقوع کی وجہ سے حکومت ہند سے بر سرپیکار غیر ملکی جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور وہ اس کا وسطی کشمیر اور سرینگر پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حال ہی میں 19 نومبر کو انڈین سکیورٹی فورسز نے بتایا کہ انھوں نے لشکر طیبہ کے کم از کم چھ شدت پسندوں کو حاجن کے ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کیا ہے۔ ان کے مطابق اس میں فضائیہ کا ایک کمانڈو ہلاک ہوا جبکہ ایک دوسرا فوجی زخمی ہوا۔

اس سے قبل جنوری کے اوائل میں سکیورٹی فورسز نے لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کو مسلح جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAbid bhat

،تصویر کا کیپشنحاجن میں انڈیا مخالف لہر اپنے عروج پر نظر آئی ہے

انڈیا کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرتا ہے اور لائن آف کنٹرول عبور کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جبکہ اسلام آباد اس کی شدت سے تردید کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو شدت پسند پاکستان سے لائن لائن کنٹرول پار کرکے انڈیا کی جانب آ جاتے ہیں انھیں اس وقت تک مقامی تعاون اور پناہ کی ضرورت ہوتی ہے جب تک وہ یا تو چھوٹے گروپ مین منقسم ہو کر حملہ کریں یا پھر بڑا حملہ کرنے کے لیے یکجا ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

جموں و کشمیر پولیس میں انسپکٹر جنرل منیر خان مقامی باشندوں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات سے انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ 'حاجن میں وردی والوں کے مقابلے پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں کا خوف زیادہ ہے۔

'محاصرے اور تلاشی کے لیے آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں کیا جاتا ہے۔'

سنہ 1990 کی دہائی کے وسط میں یہ علاقہ ہند نواز جنگجو محمد یوسف پرے عرف کوکا پرے کی وجہ سے بدنام تھا اور اس کے گروہ پر اغوا، قتل اور تشدد اور تاوان کے الزامات تھے۔

لوک گلوکار كوكا پرے نے سنہ 1995 میں انتہا پسندی کی راہ چھوڑ کر سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ انھوں نے اپنی سیاسی جماعت قائم کی اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منتخب بھی ہوئے۔

حاجن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحاجن میں مقامی لوگوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خلیج واضح طور پر نظر آتی ہے

سنہ 2003 میں پاکستان میں مبنی کالعدم تنظیم جیش محمد کے مشتبہ انتہاپسندوں نے ایک حملے میں کوکا پرے کو ہلاک کر دیا۔

حاجن کے ایک 60 سالہ رہائشی غلام پرے کہتے ہیں: 'پہلے كوكا پرے نے ہمیں ستایا اور اب سکیورٹی فورس ہمیں ستا رہی ہے۔ ہمارے لیے کچھ نہیں بدلا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج اکثر گاؤں والوں پر شدت پسندوں کو کھانا اور رہنے کی جگہ دینے کا الزام لگاتی ہے۔

کشمیر کی ایک یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی پروفیسر شزانہ اندرابی کہتی ہیں؛ 'بعض اوقات جب لوگوں کو مخصوص وجوہات یا نظریات کے لیے بدنام کیا جاتا ہے تو وہ اپنا کلنک مٹانے کے لئے دوسری انتہا پر چلے جاتے ہیں۔'

تصادم میں مارے جانے والے ایک شدت پسند کے والد عبدالحمید میر کہتے ہیں کہ حاجن کے لوگوں پر 'کشمیر کی آزادی کے حصول میں غداری کا الزام لگا کر انھیں دو رکھا گیا ہے وہ ہمیشہ کلنک زدہ اور شرمندہ کیے گئے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ ہند نواز اخوانیوں کے حامی نہیں رہے ہیں۔

حاجن کے دوسرے باشندوں کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند جنگجو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں ہند مخالف جذبات فروغ پر ہیں۔