جنوبی کشمیر میں پھر جھڑپ، حالات کشیدہ

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس سری نگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ بیج بہاڑہ میں بدھ کی رات سے جاری تصادم کے دوران لوگوں نے مظاہرے کیے ہیں اور پولیس کارروائی کے دوران ایک عام شہری کی موت ہوگئی جبکہ کئی دیگر زخمی ہیں۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل سیدجاوید مجتبی گیلانی نے تصدیق کی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کی موت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئی۔ تاہم بیج بہاڑہ کے آر ونی قصبہ سے عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ تصادم کے دوران لوگوں نے مظاہرے کیے اور سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شہری ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آر ونی میں لشکر طیبہ کے چیف ابو دُجانہ ساتھیوں سمیت موجود ہیں، جسکے بعد پولیس نے فوج اور نیم فوجی اداروں کی مدد سے حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا۔

تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ ابو دُجانہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جی پی گیلانی نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔ آخری اطلاعات ملنے تک تصادم جاری تھا۔

واضح ہے جنوبی کشمیر کے ہی کوکرناگ قصبہ میں 8 جولائی کی شام مسلح رہنما برہان وانی کو پولیس نے ایک مختصر تصادم کے دوران دو ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا، جسکے بعد پوری وادی میں ہندمخالف احتجاجی تحریک برپا ہوگئی۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAP

اس تحریک کو دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں اب تک تقریباً 100 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ مسلسل پانچ ماہ سے کشمیر میں عام زندگی ہڑتالوں، گرفتاریوں اور سرکاری پابندیوں کے باعث معطل ہے۔

تازہ تصادم کے بعد حکومت نے پھر ایک بار جنوبی کشمیر مِیں ٹیلیفوں رابطوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو محدود کردیا ہے۔

احتجاجی تحریک کے دوران 18ستمبر کو اُڑی قصبہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ساری توجہ ایل او سی پر پیدا شدہ کشیدگی اور ہندپاک تعلقات میں تناؤ پر چلی گئی ہے۔

جمعہ کے پیش نظر حکام نے جنوبی کشمیر اور سرینگرکے بعض علاقوں میں پھر ایک بار ناکہ بندی اور سیکورٹی پابندیوں کا انتظام کیا ہے۔